உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں سیلاب کے بعد اب ملیریا۔ڈٰینگو کا قہر، مریضوص سے اسپتال بھرے، حالات بدتر

     اسپتال کے کمروں کے ساتھ ایمرجنسی وارڈز بھی بھرے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی صورتحال کے پیش نظر ڈبلیو ایچ او WHO نے بھی ایک اور تباہی کا انتباہ دے دیا ہے۔

    اسپتال کے کمروں کے ساتھ ایمرجنسی وارڈز بھی بھرے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی صورتحال کے پیش نظر ڈبلیو ایچ او WHO نے بھی ایک اور تباہی کا انتباہ دے دیا ہے۔

    اسپتال کے کمروں کے ساتھ ایمرجنسی وارڈز بھی بھرے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی صورتحال کے پیش نظر ڈبلیو ایچ او WHO نے بھی ایک اور تباہی کا انتباہ دے دیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inte, IndiaPakistan
    • Share this:
      اسلام آباد۔ سیلاب اور معاشی بحران کا شکار پاکستان میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں اب اپنے پاؤں پسار رہی ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ملیریا، ڈینگو اور دیگر امراض کے مریض اسپتالوں میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اسپتالوں کی گلیارے میں ہزاروں لوگ بیماریوں کے علاج کے لیے بیٹھےہوئے ہیں۔ اسپتال کے کمروں کے ساتھ ایمرجنسی وارڈز بھی بھرے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی صورتحال کے پیش نظر ڈبلیو ایچ او WHO نے بھی ایک اور تباہی کا انتباہ دے دیا ہے۔

      روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر سہوان کے ایک سرکاری اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ایک پاؤں تک رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیکڑوں لوگ اسپتال کے کمروں اور گلیاروں میں بیٹھے ہیں جو ملیریا اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے ٹھوکرے کھا رہے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ پانی سے پھیلنے والی یہ بیماریاں ملک میں آنے والے بدترین سیلاب کے بعد پھیلنا شروع ہو ئی ہیں۔

      عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کے ایمرجنسی رسپانس ڈپارٹمنٹ کے ایک نوجوان ڈاکٹر نوید احمد نے کہا کہ جنوبی پاکستان میں ہم بیماری اور موت کو محدود کرنے کے لیے مسلسل جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں سیلاب سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔

      مشکل وقت میں پاکستان کو پھر آئی ہندستان کی یاد، مانگی 71 لاکھ مچھردانی: جانئے کیوں

      موت کے خطرے کو کم کر سکتی ہے دو کپ چائے، تحقیق سے ہوا یہ انکشاف

      پاکستان کے 110اضلاع سیلاب میں ڈوبے، مددکیلئےپہنچے اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل، یہ ہےایجنڈا

      رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روزانہ صبح ان کے کلینک میں اندازا 300-400 مریضوں میں سے بہت سے بچے ملیریا اور دست کا شکار ہوتے ہیں۔ احمد کے مطابق سیلاب کی وجہ سے لوگوں میں جلد، آنکھوں میں انفیکشن، ڈائریا، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور ڈینگو بخار کے بڑے پیمانے پر کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پھیلے سیلابی پانی کو بعض مقامات پر کم ہونے میں دو سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: