உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان نے ایک جھٹکے میں جیتا کابل، اب ملک پراقتدار کرنے میں طالبان کو مشقت کا سامنا

    ایک جھٹکے میں جیتا کابل، اب ملک پر اقتدار کرنے میں طالبان کو مشقت کا سامنا

    ایک جھٹکے میں جیتا کابل، اب ملک پر اقتدار کرنے میں طالبان کو مشقت کا سامنا

    روس، چین، پاکستان اور ترکی کی طرف سے طالبان کے لئے نرمی کے پورے اشارے ملے ہیں، لیکن ابھی کوئی منظوری دیتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ جب تک مغربی ملک طالبان کو منظوری نہیں دیتے، تب تک بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے اقتصادی مدد ملنا بھی ناممکن ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل: طالبان (Taliban) کو افغانستان کا اقتدار اتنی جلدی مل گیا، جتنا خود ان کی تنظیم (Extremist Organization) کے ٹاپ کمانڈروں نے بھی نہیں سوچا تھا۔ ایک طالبانی کمانڈر مولاوی حبیب کے مطابق، 15 اگست کو وہ لوگ کابل کے باہری سرحد پر آچکے تھے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ کابل میں انٹری کرنے میں ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے، لیکن اشرف غنی اور ان کے ساتھی ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ مولاوی حبیب کو ٹاپ لیڈر شپ سے شہر میں داخل ہونے کا حکم ملا۔

      محض کچھ گھنٹوں کے اندر ہی کابل کی گلیوں میں طالبانی دیکھے جاسکتے تھے۔ یہ سب کچھ بہت جلدی ہوا، لیکن اس کے بعد کا راستہ سب سے زیادہ مشکل تھا۔ کیونکہ کابل کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد طالبان کے سامنے اقتدار چلانے اور اپنی نرم شبینہ دکھانے کا چیلنج تھا۔ ایک طرف تنظیم کے ٹاپ لیڈر دنیا کو اپنی نرم شبیہ پیش کرتے رہے اور خواتین پر کچھ لبرل فیصلے لینے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی عام معافی کا بھی اعلان کیا، لیکن یہ الزام بھی لگتا رہا کہ چھوٹے شہروں اور کابل سے باہر کے علاقوں میں طالبان جنگجووں کی طرف سے بربریت جاری ہے۔

      ورک فرنٹ پر بری طرح جدوجہد کر رہا ہے ملک

      اب طالبان کے سامنے سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اکنامی بالکل ٹوٹ چکی ہے۔ سینٹرل بینک سیز ہوجانے اور غیر ملکی امداد پوری طرح بند ہوجانے کے سبب نقد کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ بیشتر سرکاری ملازم بری طرح خوفزدہ ہیں، جنہیں بھروسے میں لینے کے لئے طالبان کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔

      ہیلتھ سیکٹر کے حالات بے حد خراب

      طالبان کی آمد دیکھ کر اشرف غنی کے علاوہ کابل سے بڑی تعداد میں ایلیٹ کلاس نے بیرون ممالک کا رخ کرلیا تھا۔ لیکن غنی حکومت میں وزیر صحت رہے واحد مجروح نے ملک میں بنے رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک میڈیا انٹرویو میں بتایا ہے کہ طالبان کے قبضے کے دوسرے دن میں اپنے دفتر گیا تھا۔ وہاں پر ان سے طالبان کے ہیلتھ کمشنر ملنے آئے۔ ان کا برتاو انتہائی احترام والا تھا۔

      واحد مجروح تب تشدد پھیلنے کو لے کر بہت فکر مند تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسپتالوں میں ان کے ملازمین کا نیٹ ورک کام کرتا رہے۔ واحد مجروح نے انٹرویو میں بتایا کہ طالبان کی طرف سے انہیں مدد ملی، لیکن اب ملک کے ہیلتھ سیکٹر میں بھی باہری مدد پوری طرح سے بند ہوچکا ہے۔ کورونا ویکسینیشن پروگرام بری طرح ٹوٹ چکا ہے۔ اسپتال کا پورا نظام درہم برہم ہے۔

      طالبان اب بھی اپنی نئی حکومت کا اعلان نہیں کرسکا ہے۔ شدت پسند تنظیم چاہتی ہے کہ دنیا اسے منظوری دے۔ حالانکہ روس، چین، پاکستان اور ترکی کی طرف سے طالبان کے لئے نرمی کے پورے اشارے ملے ہیں، لیکن ابھی کوئی منظوری دیتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ جب تک مغربی ملک طالبان کو منظوری نہیں دیتے، تب تک بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے اقتصادی مدد ملنا بھی ناممکن ہے۔ ایسے میں کابل کا اقتدار ایک جھٹکے میں پانے والے طالبان کے اقتدار کرنے میں ہوش اڑے ہوئے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: