உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کراچی میں مارا گیا قندھار IC-814 طیارہ ہائی جیک میں شامل دہشت گرد، پہچان چھپا کر کر رہا تھا یہ کام

    Zahoor Mistry Killed in Karachi:    ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مستری کئی سالوں سے فرضی شناخت کے تحت کراچی میں مقیم تھا۔ وہ کراچی کی اختر کالونی میں فرنیچر کا کام کرتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان کے آخری سفر میں کئی دہشت گردوں نے حصہ لیا ہے۔ جیو ٹی وی نے اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔

    Zahoor Mistry Killed in Karachi: ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مستری کئی سالوں سے فرضی شناخت کے تحت کراچی میں مقیم تھا۔ وہ کراچی کی اختر کالونی میں فرنیچر کا کام کرتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان کے آخری سفر میں کئی دہشت گردوں نے حصہ لیا ہے۔ جیو ٹی وی نے اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔

    Zahoor Mistry Killed in Karachi: ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مستری کئی سالوں سے فرضی شناخت کے تحت کراچی میں مقیم تھا۔ وہ کراچی کی اختر کالونی میں فرنیچر کا کام کرتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان کے آخری سفر میں کئی دہشت گردوں نے حصہ لیا ہے۔ جیو ٹی وی نے اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔

    • Share this:
      کراچی۔ قندھار طیارہ ہائی جیک میں ملوث دہشت گرد ظہور مستری کو پاکستان کے شہر کراچی (Zahoor Mistry Killed in Karachi)   میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ظہور نام بدل کر کراچی میں بطور بزنس مین رہ رہا تھا۔ وہ سال 1999 میں ایئر انڈیا کے طیارے IC-814 کے ہائی جیکنگ میں ملوث تھا۔ اخوند کراچی کی اختر کالونی کے اندر واقع کریسنٹ فرنیچر کا مالک تھا۔ ظہور کی طرح کئی سرکردہ دہشت گرد پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

      نیوز 9 نے  ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مستری کئی سالوں سے فرضی شناخت کے تحت کراچی میں مقیم تھا۔ وہ کراچی کی اختر کالونی میں فرنیچر کا کام کرتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان کے آخری سفر میں کئی دہشت گردوں نے حصہ لیا ہے۔ جیو ٹی وی نے اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔

      ظہور کی ہلاکت کے بعد، پاکستان میں جیش محمد کے پانچ ہائی جیکروں میں سے صرف دو اب زندہ ہیں، جن میں مسعود اظہر کا بڑا بھائی ابراہیم اظہر اور ایک اور دہشت گرد رؤف اصغر شامل ہیں۔ 25 دسمبر 1999 کو 25 سالہ روپن کٹیال کو ظہور مستری نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور اس کی لاش متحدہ عرب امارات میں ہائی جیک ہونے والے طیارے سے برآمد ہوئی تھی۔ اغوا کے دن، وہ کھٹمنڈو میں سہاگ رات کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ دہلی واپس آ رہا تھا۔

      ظہور کی ہلاکت کے بعد، پاکستان میں جیش محمد کے پانچ ہائی جیکروں میں سے صرف اب دو زندہ ہیں، جن میں مسعود اظہر کا بڑا بھائی ابراہیم اظہر اور ایک اور دہشت گرد رؤف اصغر شامل ہیں۔ 25 دسمبر 1999 کو 25 سالہ روپن کٹیال کو ظہور مستری نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور اس کی لاش متحدہ عرب امارات میں ہائی جیک ہونے والے طیارے سے برآمد ہوئی تھی۔ اغوا کے دن وہ کھٹمنڈو میں ہنی مون  منانے کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ دہلی واپس آ رہا تھا۔

      پاکستان میں حیوان بنا باپ، بیٹے کی چاہت میں 7 دن کی بیٹی کو ماریں 5 گولیاں، غصے میں اٹھایا یہ خوفناک قدم

      اطلاعات کے مطابق ظہور کا تعلق دہشت گرد تنظیم جیش محمد سے تھا اور وہ ایک بزنس مین کے طور پر پاکستان میں چھپا ہوا تھا۔ جیش کے اس دہشت گرد پر حملہ کرنے والے دو حملہ آور بائیک سے آئے تھے۔ ان دونوں حملہ آوروں کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا ہے۔ دونوں کے چہروں پر ماسک تھے اس لیے ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔

      24 دسمبر 1999 کو ہندستانی طیارے کو کیا گیا ہائی جیک
      انڈین ایئر لائنز کے طیارے IC-814 کو ہائی جیکروں نے 24 دسمبر 1999 کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے پکڑ لیا تھا۔ طیارہ کھٹمنڈو سے دہلی جانا تھا لیکن ہائی جیکر اسے افغانستان کے شہر قندھار لے گئے۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی۔ طیارہ قندھار میں اترنے سے پہلے امرتسر، لاہور اور دبئی بھی لے جایا گیا۔ (ایجنسی کے ان پٹ کے ساتھ)

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: