உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Breaking: کابل ایئر پورٹ سے سبھی پروازیں معطل، ایئرانڈیا کی پروازیں 4 گھنٹے موخر

    کابل ایئر پورٹ سے سبھی پروازیں معطل، ایئرانڈیا کی پروازیں 4 گھنٹے موخر

    کابل ایئر پورٹ سے سبھی پروازیں معطل، ایئرانڈیا کی پروازیں 4 گھنٹے موخر

    افغانستان (Afghanistan) کی راجدھانی کابل واقع حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ (Hamid Karzai International Airport in Kabul) پر سبھی پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔ ٹولو نیوز (TOLO News) کے مطابق، ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لوگ ہوائی اڈے پر بھیڑ لگانے سے بچیں۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) کی راجدھانی کابل واقع حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ (Hamid Karzai International Airport in Kabul) پر سبھی پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔ ٹولو نیوز (TOLO News) کے مطابق، ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لوگ ہوائی اڈے پر بھیڑ لگانے سے بچیں۔ دوسری جانب خبر ہے کہ دہلی سے ایئر انڈیا کبل جانے والی پروازیں  (Delhi To Kabul Air India) اب رات 8:30 بجے کے بجائے 12:30 بجے پرواز کریں گی۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری نے ذرائع نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے ایئر انڈیا سے کہا ہے کہ وہ کابل سے ایمرجنسی طور پر نکلنے کے لئے دو طیاروں کو اسٹینڈ بائے پر رکھیں۔ ایئر انڈیا نے کابل سے نئی دہلی کے لئے ایمرجنسی آپریٹنگ کے لئے ایک ٹیم تیار کی ہے۔

      دوسری جانب افغانستان پر طالبان کے قبضے اور صدر اشرف غنی کے اقتدار کے گھٹنے ٹیکنے کے درمیان امریکہ نے کہا ہے کہ اپنے شہریوں، اپنے دوستوں اور معاونین کی افغانستان سے محفوظ واپسی کے لئے وہ کابل ہوائی اڈے پر 6,000 افواج کو تعینات کرے گا۔ وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے اہم معاون ممالک کے اپنے ہم منصب سے بھی بات کی ہے۔ حالانکہ ان میں ہندوستان شامل نہیں تھا۔

      امریکی اور یوروپی یونین ایسوسی ایشن کی قیادت میں 60 سے زیادہ ممالک نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے، جس میں افغانستان میں اہم عہدوں پر فائز لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انسانی زندگی اور جائیداد کی حفاظت کی ذمہ داری اور جوابدہی لیں اور سیکورٹی اور غیر سیکورٹی نظام کی بحالی کے لئے فوراً اقدامات کریں۔

      محکمہ خارجہ اور وزارت دفاع کا مشترکہ بیان

      محکمہ خارجہ اور وزارت دفاع کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا، ’فی الحال ہم حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی حفاظت کے لئے دیگر اقدامات کر رہے ہیں تاکہ فوجی اور غیر فوجی طیاروں کے ذریعہ امریکی لوگ اور ان کے معاونین افغانستان سے محفوظ نکل سکیں‘۔ اس میں کہا گیا، ’آئندہ 48 گھنٹوں میں، تقریباً 6000 سیکورٹی اہلکاروں کو وہاں تعینات کیا جائے گا۔ ان کا مشن لوگوں کو وہاں سے محفوظ نکالنے میں مدد دینا ہوگا اور وہ ہوائی نقل وحمل کنٹرول کو بھی اپنے قبضے میں لیں گے۔ کل اور آنے والے دنوں میں ہم ملک سے ہزاروں امریکی شہریوں، کابل میں امریکی مشن پر تعینات مقامی لوگوں اور ان کی فیملی کو نکالیں گے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں خصوصی ویزا ہولڈر تقریباً 2,000 لوگ کابل سے امریکہ پہنچ چکے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: