آرٹیکل 370 : پاکستان کے فیصلے کی ہندوستان میں مخالفت، سیاسی لیڈروں نےکہا- یہ ہمارا داخلی معاملہ

جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لئے لوک سبھا اورراجیہ سبھا میں بل پاس ہونے کے ٹھیک ایک دن بعد پاکستان کی طرف سے کارروائی کی گئی ہے۔

Aug 08, 2019 12:08 AM IST | Updated on: Aug 08, 2019 12:12 AM IST
آرٹیکل 370 : پاکستان کے فیصلے کی ہندوستان میں مخالفت، سیاسی لیڈروں نےکہا- یہ ہمارا داخلی معاملہ

پاکستان نے ہندوستانی ہائی کمشنر کوملک بدرکردیا اور ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کوتوڑ لیا ہے۔

جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لئے لوک سبھا اورراجیہ سبھا میں بل پاس ہونے کے ٹھیک ایک دن بعد پاکستان کی طرف سے کارروائی کی گئی ہے۔ پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ تجارتی اورسفارتی تعلقات ختم کرنے کے ساتھ ہی ہندوستانی ہائی کمشنرکو پاکستان چھوڑنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ ساتھ ہی اس نے ہندوستان میں موجود پاکستانی ہائی کمشنرکوواپس بلا لیا ہے۔

پاکستان کے ذریعہ یہ قدم اٹھائے جانے کے بعد ہندوستانی جماعتوں نے ایک آواز میں اس کی مذمت کی ہے۔ بی جے پی لیڈر رام مادھونے کہا ہے کہ پاکستان کا اس معاملے پربولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 پرفیصلہ لیا ہے اوریہ ہمارا داخلی معاملہ ہے۔ اس معاملے پرکسی بھی دوسرے ملک سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

Loading...

وہیں پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ردعمل بے وجہ ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ اس معاملے میں فیصلہ لینے کا اختیارہندوستان کے پاس ہے۔ اسلام آباد کو اسے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت بند کرنے کی بنیاد نہیں بنانی چاہئے۔

Capture-10

کانگریس کے سینئر لیڈر اورسابق وزیرخارجہ سلمان خورشید کے مطابق آخرانہیں اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ یہ سب چھوٹی سوچ والے فیصلے ہیں۔ اس فیصلے کا خمیازہ انہیں ہی اٹھانا ہوگا۔ لیکن اگروہ علامتی فیصلہ لینا چاہتے ہیں تو لیں، ان کی مرضی۔

 

 

اس سے قبل جموں وکشمیرسے دفعہ 370 اوردفعہ 35 اے ہٹائےجانے کے بعد بوکھلائے پاکستان نے ہندوستان کےساتھ ڈپلومیٹک تعلقات میں منقطع کرلئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں پاکستان نے ہندوستان کےساتھ دوطرفہ تجارتی رشتے منقطع کرلئے۔ پاکستان کےانگریزی اخبار'ڈان' کی ویب سائٹ کے مطابق قومی سیکورٹی کمیٹی (این ایس سی) نےبدھ کوپاکستان کے ڈپلومیٹک تعلقات کوختم کرنےاورہندوستان کے ساتھ سبھی دو طرفہ تجارتی تعلقات ختم کرنےکا 'سنکلپ' لیتے ہوئےکشمیرسے متعلق تعلقات میں حالیہ پیش رفت کے پیش نظرکئی بڑے فیصلےلئے۔ ڈان کے مطابق میٹنگ میں نئی دہلی سے پاکستان کےسفیرکوواپس بلانے اورہندوستانی سفیرکوملک بدرکرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اے آروائی نیوزکوبتایا 'ہمارے سفیراب نئی دہلی میں نہیں رہیں گے اوریہاں سے ان کے سفیروں کوبھی واپس بھیجا جائےگا'۔

 

Loading...