உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقتصادی ترقی شرح میں ہندوستان کا ہوگا امریکہ اور چین پر دبدبہ،IMF نے 8.2 فیصد کا لگایا اندازہ

    چین اور امریکہ سے اس معاملے میں آگے نکل سکتا ہے ہندوستان۔

    چین اور امریکہ سے اس معاملے میں آگے نکل سکتا ہے ہندوستان۔

    کئی دیگر وجوہات کی بنا پر چین کی شرح نمو امریکہ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر ہم امریکہ کی بات کریں تو دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

    • Share this:
      واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(IMF) نے اندازہ لگایا ہے کہ مالی سال 2022-23 میں ہندوستان کی شرح نمو 8.2 رہ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے لگایا گیا یہ تخمینہ بہت خاص ہے کیونکہ ہندوستان،امریکہ اور چین کے بارے میں جو تخمینہ ہے اس سے بہت آگے ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق کورونا وبا اور یوکرین روس جنگ کے اثرات امریکا کی اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سال 2022 کے لئے ہندوستان کی ترقی کی پیشن گوئی کو گھٹادیا ہے۔ اس سے قبل شرح نمو 9 فیصد بتائی گئی تھی۔ تاہم نئے تخمینوں میں شرح نمو میں کمی کے باوجود ہندوستانی معیشت چین کی شرح سے تقریباً دوگنی ترقی کرے گی۔

      آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال میں امریکا کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ ساتھ ہی چین کے بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا اندازہ ہے کہ ان دو وجوہات کی وجہ سے چین کی شرح نمو 4.4 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ یورو زون کے بارے میں آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق اس کی شرح نمو 2.8 سے 3.9 فیصد کے درمیان متوقع ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      دنیا میں روایتی ادویات کا رہنما بنے گا ہندوستان: PM Modi

      آئی ایم ایف کے لگائے گئے تخمینوں میں ایک چیز بہت دلچسپ نظر آتی ہے۔ یعنی چین اقتصادی ترقی کی راہ میں امریکہ کو مات دیتا نظر آ رہا ہے۔ تاہم اگر ہم دونوں ممالک کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ہی کورونا کی وبا سے بہت پریشان ہیں۔ اگر ہم خود چین کی بات کریں تو وہاں مسلسل نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ چین کا مالیاتی مرکز کہلانے والے شنگھائی میں کورونا کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے شنگھائی ابھی تک لاک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Covid 19 Updates:بڑھتے کیسیز پرہیلتھ سکریٹری نے پانچ ریاستوں کوخط لکھ کراحتیاط برتنے کوکہا

      اس کے ساتھ ہی شنگھائی میں لوگ اب لاک ڈاؤن اور کورونا پابندیوں سے تنگ آچکے ہیں اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج بھی کررہے ہیں۔ ساتھ ہی آئی ایم ایف کی جانب سے لگایا گیا تازہ ترین تخمینہ بھی بہت خاص بنتا ہے کیونکہ کورونا کے اس دور میں چین کی اقتصادی ترقی کا پہیہ کئی ممالک سے زیادہ تیزی سے گھومتا ہے۔

      چین کی جانب سے کئی ممالک کو انسداد کورونا ادویات اور ویکسین کی تیاری کے لیے خام مال فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر وجوہات کی بنا پر چین کی شرح نمو امریکہ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر ہم امریکہ کی بات کریں تو دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ میں کورونا کے دور میں لاکھوں لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: