உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    داعش نے منی سوٹا مال پر حملہ کی ذمہ داری لی

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    واشنگٹن۔ داعش کی خبررساں ایجنسی نے کہا ہے کہ ’’وسطی منی سوٹا کے مال میں 9 افراد کو چاقو مارنے کے بعد شہید ہونے والا شخص ’’داعش کا فوجی تھا‘‘۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      واشنگٹن۔ داعش کی خبررساں ایجنسی نے کہا ہے کہ ’’وسطی منی سوٹا کے مال میں 9 افراد کو چاقو مارنے کے بعد شہید ہونے والا شخص ’’داعش کا فوجی تھا‘‘۔ ایف بی آئی اس کو دہشت گردانہ حملہ سمجھ کر تفتیش کررہی ہے۔ شہر کے پولیس سربراہ ولیم بلیئر اینڈرسن نے اخباری نمائندوں کو بتایا’’ایک شخص جس نے پرائیویٹ محافظ کی وردی پہن رکھی تھی ۔ اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے سنیچر کے روز کراس روڈ سینٹرل مال، میں حملہ کیا ۔ اس نے حملہ کرنے سے قبل ایک شخص سے پوچھا کہ کیا وہ مسلمان ہیں۔


      حملہ آور کو ایک پولیس والے نے اس وقت گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ حکام نے مشکوک شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی کیونکہ تفتیش چل رہی تھی۔ ایف بی آئی کا خیال ہے کہ یہ ’’ دہشت گردانہ حملہ تھا۔ جانچ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ یہ نہیں معلوم اس شخص کے منصوبہ سے کوئی اور بھی واقف تھا یا نہیں ‘‘۔حکام نے پہلے بتایا تھا کہ 8 لوگوں کو چاقو لگے ہیں تاہم ایک شخص خواہی ہسپتال چلا گیا تھا اس لئے اسے شمار نہیں کیا گیا تھا۔ کل تین متاثر ین ہسپتال میں تھے مگر کسی کی بھی جان کو خطرہ نہیں ہے۔


      پولیس افسر جیسن فالکونر نے کہا کہ ’’حملہ آور کو گولی مار کر مزید لوگوں کو زخمی ہونے اور جانی نقصان سے بچایا گیا‘‘۔ دولت اسلامیہ (داعش) کی خبررساں ایجنسی عمق نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کل منی سوٹا میں چاقو سے حملہ کرنے والا اسلامی مملکت کا جاں باز تھا اس نے صلیبی اتحاد سے تعلق رکھنے والے ممالک کے شہریوں کو نشانہ بنانے کی اپیل کے جواب میں یہ کارروائی کی ہے۔ رائٹر فی الحال عمق کے دعوے کی تصدیق نہیں کرسکا ہے۔ سینٹ کلاوڈ میں رہنے والے صومالی فرقہ کے لیڈروں نے حملہ کی مذمت کی ہے اور ممکنہ جوابی کارروائی کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔

      First published: