உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں بائیڈن نے کہا : دنیا کو ایک فیصلہ کن وقت کا سامنا

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں بائیڈن نے کہا : دنیا کو ایک فیصلہ کن وقت کا سامنا ۔ اے این آئی ۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں بائیڈن نے کہا : دنیا کو ایک فیصلہ کن وقت کا سامنا ۔ اے این آئی ۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکہ کو عالمی قیادت کے کردار میں واپس لانے کے لیے مہم کا آغاز کیا ہے جس کی انہوں نے اپنے خطاب میں دوبارہ تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہمیں مل کر کام کرنا چاہئے ، جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      اقوام متحدہ : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں امریکی صدر جوبائیڈن نے اتحادیوں سے تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو ایک فیصلہ کن وقت کا سامنا ہے۔ امریکہ کے شہر نیو یارک میں اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس ماحولیاتی بحران اور وبائی بیماری کے پس منظر میں ہورہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ان کی یہ یقین دہانی امریکہ کے افغانستان سے انخلا پر اتحادی ممالک کے ساتھ کشیدگی اور سب میرین معاہدے پر فرانس کے ساتھ ایک اہم سفارتی تنازع کے درمیان سامنے آئی۔

      امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکہ کو عالمی قیادت کے کردار میں واپس لانے کے لیے مہم کا آغاز کیا ہے جس کی انہوں نے اپنے خطاب میں دوبارہ تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہمیں مل کر کام کرنا چاہئے ، جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا ۔ انہوں نے ان محاذوں پر تعاون کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ 'ہماری اپنی کامیابی دوسروں کی کامیابی کے ساتھ منسلک ہے۔

      ڈان کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کے بارے میں جو بائیڈن نے زور دیا کہ امریکہ نئی سرد جنگ یا تقسیم شدہ دنیا کا خواہاں نہیں ہے'۔تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ بھرپور طریقے سے 'اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرے گا'۔ انہوں نے افغانستان سے انخلا پر بھی زور دیا ، جس پر اندرون اور بیرون ملک اتحادیوں نے ان پر تنقید کی ہے، انہوں نے کہا کہ 'فوجی قوت ہمارا آخری حربہ ہونا چاہئے'۔

      سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے اختلافات رکھنے والے عالمی رہنماؤں نے ان کے بعد جو بائیڈن کی قیادت میں زیادہ مستحکم اور قابل اعتماد امریکہ کی اُمید کی تھی ۔ تاہم جو بائیڈن کی حالیہ خارجہ پالیسی کے اقدامات نے بے چینی پیدا کی ہے۔ یاد رہے کہ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد افغانستان سے انخلا کے دوران امریکہ کی ہم آہنگی کے فقدان پر اتحادیوں میں دھڑے بنتے نظر آئے۔ واضح رہے کہ انخلا کے وقت نیٹو مشن میں 36 ممالک کے فوجی شامل تھے، جن میں سے تین چوتھائی غیر امریکی تھے۔

      گزشتہ ہفتے امریکہ اور برطانیہ کے سہ فریقی معاہدے نے آسٹریلیا کو ایٹمی قوت سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کیں جس سے فرانسیسی مشتعل ہوئے جن کا آسٹریلیا کے ساتھ روایتی آبدوزیں بنانے کا پانچ سال پرانا معاہدہ تھا۔فرانسیسی وزیر خارجہ جین یوز لی ڈریان نے معاہدے کو 'پیٹھ میں چھرا' قرار دیا جس کے بعد فرانس نے دونوں ممالک سے اعلیٰ فرانسیسی سفارتکاروں کو واپس بلا لیا تھا۔

      جو بائیڈن انتظامیہ نے کووڈ 19 ویکسین کی امریکی ذخیرہ اندوزی اور غیر باہمی سفری پابندیوں پر بین الاقوامی تنقید کا بھی سامنا کیا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: