உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان چھوڑنے کے خواہشمند لوگوں کیلئے کابل ایئرپورٹ پر پہنچانے میں امریکہ کر رہا ہے مدد

    Youtube Video

    وائٹ ہاؤس کے مطابق طالبان نے افغانستان سے نکلنے کی کوشش کرنے والے شہریوں کے لیے محفوظ راستے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے لیکن انخلاء کا راستہ طالبان کی رکاوٹوں کی وجہ سے محدود ہے۔

    • Share this:
      امریکہ کی ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ وینڈی شرمین کا کہنا ہے کہ امریکہ ان لوگوں کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے جو کابل ایئرپورٹ پر پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ وہ افغانستان سے نکل سکیں۔ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب طالبان کرفیو اور چوکیوں نے ان لوگوں کی تعداد کو محدود کر دیا ہے جو ہوائی اڈے کے اندر امریکی زیر انتظام انخلاء کے عمل کے مقامات تک پہنچنے کے قابل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق طالبان نے افغانستان سے نکلنے کی کوشش کرنے والے شہریوں کے لیے محفوظ راستے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے لیکن انخلاء کا راستہ طالبان کی رکاوٹوں کی وجہ سے محدود ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے یہ بھی واضح کردیا ہیکہ وہ طالبان کے اقدامات اور بیانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

      طالبان (Taliban) کو ایک اوربڑا جھٹکا لگا ہے۔ حال ہی میں ، امریکہ نے نو اعشاریہ پانچ بلین ڈالر یعنی سات سو چھ ارب روپے کے اثاثے منجمد کیے تھے ، جس کے بعد اب آئی ایم ایف یعنی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنے وسائل کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ آئی ایم ایف (International Monetary Fund) نے کہا ہے کہ طالبان کے زیر قبضہ افغانستان (Afghanistan) اب اپنے وسائل استعمال نہیں کر سکے گا اور نہ ہی انہیں کوئی نئی مدد دی جائے گی۔ آئی ایم ایف (IMF) نے چار سو ساٹھ ملین ڈالر یا تقریبا تین ہزار چار سو کروڑ روپے کے ہنگامی ریزرو تک افغانستان کی رسائی روک دی ہے۔ یہ فیصلہ طالبان کے قبضے کے بعد ملک کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

      امریکہ نے سیل کی 706 ارب سے زیادہ کی املاک
      نیو یارک ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے یہ فیصلہ جو بائیڈن انتظامیہ کے دباؤ کے بعد کیا ہے۔ منگل کے رو ، امریکہ America نے افغانستان کے سینٹرل ینک کی تقریبا 9.5 بلین ڈالر یا 706 ارب روپے سے زیادہ کی املاک سیل کر دی ہے۔ یہی نہیں امریکہ نے افغانستان کو نقد رقم کی سپلائی بھی روک دی ہے تاکہ ملک کا پیسہ طالبان کے ہاتھوں میں نہ جائے۔

      نیوز ایجنسی اے این آئی (ANI) نے میڈیا رپورٹس کے حوالے سے یہ معلومات دی۔ آئی ایم ایف (IMF) نے 460 ملین امریکی ڈالر یا 46 ملین ڈالر (3416.43 کروڑ روپے) کے ہنگامی ذخائر تک افغانستان کی رسائی روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک پر طالبان کے قبضے نے افغانستان کے مستقبل کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اسی لیے آئی ایم ایف نے یہ فیصلہ کیا۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ طالبان کے قبضے والا افغانستان اب آئی ایم ایف کے وسائل استعمال نہیں کر سکے گا۔ نہ ہی اسے کوئی نئی مدد ملے گی۔

      واضح ہو کہ امریکہ (America) کے بینکوں میں موجود افغان حکومت کے بینک اکاونٹ کو سیل کر دیا گیا ہے۔ صدر جو بائیڈن (Joe Biden) کی انتظامیہ نے اتوار کو یہ فیصلہ لیا۔ خبر ہے کہ انتظامیہ نے یہ فیصلہ امریکی اداروں میں رکھے ڈالر تک طالبان (Taliban) کی پہنچ پر روک لگانے کے لئے لیا ہے۔ پہلے ہی دنیا کے غریب ممالک میں شامل افغانستان کافی حد تک امریکہ کی اقتصادی مدد پر منحصر تھا۔ ایسے میں اس پابندی کے بعد ملک کے سامنے نئی مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں۔

      واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، جو بائیڈن انتظامیہ نے گزشتہ اتوار کو امریکی بینک اکاونٹ میں موجود افغان حکومت کے ریزرو کو فریز کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹریزری سکریٹری جینیٹ ایل ییلن اور آفر آف فارین ایسسٹس کنٹرول کے ٹریزری محکمہ کے افسران کی طرف سے لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ایک افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے، ’امریکہ میں افغان حکومت کی کسی سینٹرل بینک کی جائیداد کو طالبان کے لئے دستیاب نہیں کرایا جائے گا‘۔

      گزشتہ پیر کو اپنے خطاب کے دوران صدر جو بائیڈن نے افغانستان کو اقتصادی مدد جاری رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا، ’ہم افغان لوگوں کی حمایت کرنا جاری رکھیں گے۔ ہم ہماری ڈپلومیسی، اپنے بین الاقوامی اثر و رسوخ اور اپنے انسانی امداد کے ساتھ قیادت کریں گے‘۔ فنڈ بلاک کرنے کے عمل کو لے کر وہائٹ ہاوس اور ٹریزری ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے ابھی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: