ہوم » نیوز » عالمی منظر

سرحد پر کشیدگی ، امریکہ کی ہندوستان اور پاکستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل

ہندستان اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ نے دونوں ملکوں سے کہاہے کہ وہ کسی بھی لڑائی میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی نہ دیں

  • UNI
  • Last Updated: Sep 30, 2016 02:43 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سرحد پر کشیدگی ، امریکہ کی ہندوستان اور پاکستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل
ہندستان اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ نے دونوں ملکوں سے کہاہے کہ وہ کسی بھی لڑائی میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی نہ دیں

واشنگٹن : ہندستان اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ نے دونوں ملکوں سے کہاہے کہ وہ کسی بھی لڑائی میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی نہ دیں۔ امریکی حکومت نے کل واضح طور پر یہ بھی کہا کہ وہ 18 ستمبر کو اوڑی میں ہندستانی فوج کے کیمپ پر ہوئے حملہ کو دہشت گردانہ حرکت سمجھتا ہے۔

ایٹمی لڑائی سے گریز کرنے کی وارننگ بین اقوامی میڈیا میں آئی ان خبروں کے بعد آئی ہے کہ ہند و پاک دونوں ملکوں کی حکومتوں نے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی تیز کردی ہے اور ایک دوسرے کے خلاف ایٹمی حملوں کے امکان کا اشارہ دیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان سے جب ان خبروں پر رائے زنی کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے پاکستانی روزنامہ ڈان سےکہا کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ملکوں کی ذمہ داری ہےکہ وہ ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں کے استعمال کے تعلق سے صبر و تحمل سے کام لیں۔

کنٹرول لائن کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے پوچھے جانے پر مہ دار کا کہنا تھاکہ یہ بات واضح رہنا چاہئے کہ اوڑی میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ دہشت گردی کی ایک کارروائی تھی اور ہم اس کی شدید مذمت کرچکے ہیں۔ امریکی افسر نے کہا کہ ہم نے خبریں دیکھی ہیں اور صورتحال کا نہایت قریب سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دونوں پر تحمل اور پرسکون رہنے پر زور دیتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی اور ہندوستانی افواج آپس میں رابطے میں ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے ہی اس کشیدگی کو ختم کیا جاسکتا ہے‘‘۔

کنٹرول لائن پار حملوں کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کے افسر نے اڑی حملے کو دہشت گردانہ قرار دیا او رکہا کہ ’’ ہم خطے کو بین سرحدی دہشت گردی سے لاحق خطرات کے تعلق سےبارہا اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں ۔’’ہم لشکر طیبہ، حقانی نیٹ ورک اور جیش محمد جیسے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے پر بھی زور دیتے ہیں‘‘۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہندستانی وزیر خارجہ سشما سوراج سے منگل کو رابطہ کر کے اڑی حملے کی مذمت کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی اور کشیدگی بڑھانے کے حوالے سے خبردار کیا۔ مسئلہ کشمیر کے تعلق سے ایک دوسرے سوال کے جواب میں امریکی افسر نے کہا کہ’’ کشمیر پر مذاکرات کی نوعیت اور گنجائش کا تعین ہندستان اور پاکستان کو کرنا ہے اور ہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تمام مثبت اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اوڑی حملے کو سرحد پار دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے اسلام آباد پر زور دیا گیا تھا کہ وہ لشکر طیبہ، جیش محمد اور ان سے منسلک دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس نے بھی اپنے ہندوستانی ہم منصب اجیت دووال کو ٹیلیفون کرکے اوڑی حملے کی مذمت کی۔
یاد رہے کہ رواں ماہ 18 ستمبر کو جموں و کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے سیکٹر اوڑی میں ہندوستان کے فوجی مرکز پر حملے کے نتیجے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد ہندوستان نے بغیر تحقیقات اور ثبوت کے اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔
First published: Sep 30, 2016 02:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading