உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine War:مشرقی یوکرین میں گھمسان کی لڑائی، لوہانسک پر قبضے کے قریب روسی فوج،زیلنسکی نے کہا-سبھی علاقے لیں گے واپس

    Russia Ukraine War: لوہانسک پر قبضہ کے قریب روسی فوج۔

    Russia Ukraine War: لوہانسک پر قبضہ کے قریب روسی فوج۔

    Russia Ukraine War: روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ماریوپول میں خونریز تنازعہ 2,439 افراد کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ اب وہاں حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔

    • Share this:
      Russia Ukraine War: مشرقی یوکرین کے ڈونسک اور لوہانسک میں گزشتہ کئی ہفتوں سے شدید لڑائی جاری ہے۔ روسی سرحد کے قریب اس علاقے کا ایک حصہ 2014 سے روسی حمایت یافتہ باغیوں کے قبضے میں ہے۔ باغیوں کے ساتھ مل کر روسی فوج نے دونوں صوبوں میں بڑی تباہی مچائی ہے۔ لوہانسک کے تقریباً 90 فیصد علاقے پر روسی فوج کا قبضہ ہے۔ روسی فوج اب یہاں اپنی آخری ضربیں لگا رہی ہے۔

      ماریوپول پر روس کا قبضہ
      یہی نہیں یوکرین کی جنگ میں سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والے ماریوپول کو بالآخر روسی فوج نے مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا۔ جمعہ کی شام 531 یوکرائنی فوجیوں اور جنگجوؤں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد، 12 مربع کلومیٹر پر محیط اجوسٹال اسٹیل فیکٹری روسی فوج کے کنٹرول میں آ گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں مجموعی طور پر 2,439 یوکرائنی فوجیوں اور جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، جن میں کئی سو زخمی ہیں۔ یہ سب اب جنگی قیدیوں کے طور پر روسی فوج کی تحویل میں ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia Ukraine War:بڑھتے چیلنجز سے محتاط روس40سال کی عمرسے زائدافرادکوفوج میں کرے گابھرتی

      یہ بھی پڑھیں:
      Taliban in Afghanistan:طالبان کا نیا فرمان-ٹی وی پر خاتون میزبان کا چہرہ ڈھانپنا لازمی

      زیلنسکی نے کہا-سبھی حصے لیں گے واپس
      روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ماریوپول میں خونریز تنازعہ 2,439 افراد کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ اب وہاں حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سے قبل یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے اسٹیل فیکٹری میں موجود فوجیوں سے کہا تھا کہ وہ وہاں سے نکل جائیں اور جانیں بچائیں۔ یوکرین کے صدر ولادومیر زیلنسکی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ تمام علاقوں پر روس کا قبضہ عارضی ہے۔ چاہے وہ ڈونباس کا علاقہ ہو یا کریمیا کا۔ تمام علاقے یوکرین کے پاس واپس آجائیں گے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: