உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Salman Rushdie attack: وینٹی لیٹر سے ہٹائے گئے رائٹر سلمان رشدی، اب بات کرنے کے قابل

    Salman Rushdie attack: وینٹی لیٹر سے ہٹائے گئے رائٹر سلمان رشدی، اب بات کرنے کے قابل ۔ فائل فوٹو ۔

    Salman Rushdie attack: وینٹی لیٹر سے ہٹائے گئے رائٹر سلمان رشدی، اب بات کرنے کے قابل ۔ فائل فوٹو ۔

    Salman Rushdie attack: رائٹر سلمان رشدی کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ رشدی پر جمعہ کو نیویارک میں ایک اسٹیج پر لیکچر دینے کے دوران چاقو سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا ۔

    • Share this:
      نیویارک : 75 سالہ رائٹر سلمان رشدی کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ رشدی پر جمعہ کو نیویارک میں ایک اسٹیج پر لیکچر دینے کے دوران چاقو سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا ۔ وہ پوری طرح سے خون سے لت پت تھے ۔ ان کا لیور متاثر ہوگیا تھا اور ایک آنکھ کھونے کا بھی امکان تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: سلمان رشدی پر تابڑتوڑ حملے کرنے والے حملہ Hadi Matar کے بارے میں 5 باتیں


      واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے اس بات کی جانکاری دی ہے کہ رشدی کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے اور اب وہ بات کرنے کے بھی قابل ہوسکتے ہیں ۔ جبکہ نیویارک پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ رشدی پر چاقو سے حملہ کرنے والا 24 سالہ ہادی کو ہفتہ کو ریمانڈر پر چوٹا اوکا کاونٹی جیل لایا گیا ۔ نیویارک کی عدالت میں ملزم نے الزامات کیلئے قصوروار نہیں ہونے کا دعوی کیا ہے ۔


      یہ بھی پڑھئے: Salman Rushdie:تسلیمہ نسرین نے کہا-کبھی نہیں سوچا تھاکہ ایساہوگا؟جانیے مشہورشخصیات کاردعمل


      سلمان رشدی پراس حملہ کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کی گئی تھی ۔ بورس جانسن نے ٹویٹ کیا تھا کہ سر سلمان رشدی کو چھرا گھونپا گیا ۔ ابھی میری تعزیت ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ہیں ۔ ہم سبھی امید کررہے ہیں کہ وہ ٹھیک ہیں ۔

      بتادیں کہ رشدی پر ہوئے اس حملے کے بعد ایران کے مقامی لوگوں نے حملہ آور کی حمایت کی ہے ، کیونکہ ان کی ایک کتاب 'دی سیٹینک ورسیز' شائع ہونے کے بعد تنازع بڑھ گیا تھا ، جس کے بعد ایران کے مذہبی لیڈر آیت اللہ خمینی نے رشدی کو موت کی سزا کا فتوی جاری کیا تھا ۔ قتل کرنے والے کو 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا انعام دینے کی بھی پیش کش کی گئی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: