ہوم » نیوز » عالمی منظر

اپنی ہی اولاد سے شادی کیلئے بے قرار ہوا شخص ، عدالت کا کھٹکھایا دروازہ ، کہا : مجھے ہوگیا ہے پیار

امریکہ کے نیویارک میں ایک شخص نے اپنی ہی اولاد سے شادی کرنے کی اجازت مانگی ہے ۔ یہ عرضی وائرل ہورہی ہے ۔کورٹ میں داخل کی اپنی عرضی میں اس شخص نے کہا ہے کہ اس کو اس کی اولاد سے پیار ہوگیا ہے ۔ وہ اپنی اولاد کو پرپوز کرنا چاہتا ہے ، لیکن اس کو ڈر ہے کہ سماج اس کی مخالفت کرے گا ۔

  • Share this:
اپنی ہی اولاد سے شادی کیلئے بے قرار ہوا شخص ، عدالت کا کھٹکھایا دروازہ ، کہا : مجھے ہوگیا ہے پیار
اپنی ہی اولاد سے شادی کیلئے بے قرار ہوا شخص ، عدالت کا کھٹکھایا دروازہ ، کہا : مجھے ہوگیا ہے پیار

شادی بیاہ دو دلوں کا میل ہے ۔ جب دو بالغ ایک ساتھ زندگی گزارنے کیلئے راضی ہوجاتے ہیں تب دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں ۔ ہندوستان میں شادی بیاہ کو تہوار کی طرح منایا جاتا ہے ، جس میں دو لوگ ہی نہیں ، دو خاندان بھی آپس میں جڑجاتے ہیں ۔ ہندوستان میں شادی سے پہلے گھر کی پوری چھان بین کی جاتی ہے ۔ حالانکہ بیرون ممالک صرف لڑکا اور لڑکی اپنی انڈراسٹینڈنگ دیکھ کر شادی کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ لیکن حال ہی میں امریکہ کے نیویارک میں ایک شخص نے اپنی ہی اولاد سے شادی کرنے کی اجازت مانگی ہے ۔ یہ عرضی وائرل ہورہی ہے ۔


کورٹ میں داخل کی اپنی عرضی میں اس شخص نے کہا ہے کہ اس کو اس کی اولاد سے پیار ہوگیا ہے ۔ وہ اپنی اولاد کو پرپوز کرنا چاہتا ہے ، لیکن اس کو ڈر ہے کہ سماج اس کی مخالفت کرے گا ۔ ساتھ ہی وہ چاہتا ہے کہ اس کو عدالت سے اپنی اولاد سے شادی کی اجازت مل جائے ۔ تاکہ مستقبل میں اس کو کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔


عدالت میں داخل کی گئی عرضی میں عرضی گزار نے اپنی اور اپنی اولاد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے ۔ دونوں کا جینڈر بھی ظاہر نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ عرضی مین ہیٹن کے فیڈرل کورٹ میں دائر کی گئی ہے ۔ دراصل اس ملک میں ایسے رشتووں کو غیر آئینی قرار دیا گیا ہے ۔ ان رشتوں کے انکشاف سے سماج میں کافی بدنامی ہوتی ہے ۔


مل سکتی ہے چار سال کی سزا

کورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں شخص نے لکھا ہے کہ شادی دو لوگوں کے درمیان ذاتی معاملہ ہے ۔ یہ لوگوں کے احساسات پر مبنی ہے ۔ اس کا فیصلہ دو لوگوں کو اپنی رضامندی کی بنیاد پر کرنا چاہئے نہ کہ عدالت اور قانون کے ذریعہ بنائے گئے ضابطے کی بنیاد پر ۔ بتادیں کہ نیویارک قانون کے مطابق اگر کوئی اپنے کبنہ کے رکن سے شادی کرے یا اس سے رشتہ رکھے ، تو ایسے معاملات میں چار سال تک کی سزا ہوسکتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 14, 2021 10:26 PM IST