امریکہ کی طالبان کے ساتھ امن بات چیت ختم ، ٹرمپ نے کہا : ہم صحیح وقت پر آئیں گے باہر

افغانستان میں 18 سالہ جنگ کو ختم کرکے اپنی فوج واپس بلانے کے لیے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے’مردہ‘ قرار دے دیا۔

Sep 10, 2019 12:22 PM IST | Updated on: Sep 10, 2019 12:22 PM IST
امریکہ کی طالبان کے ساتھ امن بات چیت ختم ، ٹرمپ نے کہا : ہم صحیح وقت پر آئیں گے باہر

ڈونالڈ ٹرمپ

افغانستان میں 18 سالہ جنگ کو ختم کرکے اپنی فوج واپس بلانے کے لیے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے’مردہ‘ قرار دے دیا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کے حوالہ سے کہا کہ ’’جہاں تک میرا تعلق ہے وہ مردہ ہوگئے ہیں‘‘۔افغانستان سے امریکہ کے 14 ہزار فوجیوں کی واپسی کے حوالہ سے ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم وہاں سے باہر آئیں گے لیکن ہم صحیح وقت پر باہر آئیں گے‘‘۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے دو روز قبل افغان صدر اشرف غنی اور طالبان سے کیمپ ڈیوڈ میں طے شدہ خفیہ ملاقات کو منسوخ کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ طالبان نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی سے امریکہ کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ بعد ازاں امریکی سکریٹری اسٹیٹ مائیکل پومپیو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امید ہے کہ طالبان اپنے رویہ کو تبدیل کریں گے اور مذاکرات جہاں تک پہنچے تھے وہیں سے شروع کریں گے اور اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔

Loading...

ڈونالڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ’’وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو اس لئے مارا تاکہ مذاکرات میں اپنی پوزیشن بہتر بنا لیں جو ایک بڑی غلطی ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہماری ملاقات طے تھی جو میرا آئیڈیا تھا اور منسوخ کرنا بھی میرا آئیڈیا تھا ، میں نے اس حوالہ سے کسی سے بات نہیں کی تھی‘‘۔

ट्रंप के बातचीत रद्द करने के बाद बोला तालिबान- अब ज्यादा लोग मरेंगे

افغانستان میں طالبان کے حملہ میں امریکی فوجی سمیت 12 افراد کی ہلاکت پر مذمت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’’میں نے کیمپ ڈیوڈ ملاقات کو اس بنیاد پر منسوخ کیا کہ انہوں نے وہ کچھ کیا تھا جو انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا‘‘۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں طالبان رہنماؤں سے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی خفیہ ملاقات کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’یہ بات شاید کسی کو بھی معلوم نہیں کہ طالبان کے اہم رہنما اور افغان صدر مجھ سے کیمپ ڈیوڈ میں علیحدہ علیحدہ خفیہ ملاقاتیں کرنے والے تھے‘‘۔  ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’وہ آج امریکہ آرہے تھے، بدقسمتی سے جھوٹے مفاد کے لئے انہوں نے کابل میں حملہ کی ذمہ داری قبول کی جس میں ہمارے ایک عظیم سپاہی سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ’’میں یہ ملاقات فوری طور پر منسوخ کرتا ہوں اور امن مذاکرات کو بھی معطل کرتا ہوں‘‘۔

Loading...