உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکہ، سعودی عرب ، قطر اور ترک حمایت یافتہ شامی باغی گروپوں پر ایمنیسٹی نے لگائے سنگین الزامات

    فائل تصویر

    فائل تصویر

    لندن : ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکہ، سعودی عرب، قطر اور ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغی گروپوں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں جن میں اغوا اور تشدد کے ساتھ ساتھ موت کی سزائیں شامل ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      لندن : ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکہ، سعودی عرب، قطر اور ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغی گروپوں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں جن میں اغوا اور تشدد کے ساتھ ساتھ موت کی سزائیں شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی علمبرداراس بین اقوامی تنظیم کے ایک جائزے میں 2012ء اور 2016ء کے درمیانی عرصے میں شامی صوبوں حلب اور ادلب میں مسلح گروپوں کی جانب سے اغوا کے واقعات کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔
      رپورٹ کے مطابق اغوا کئے جانے والوں میں امن کے لیے سرگرم کارکنان اور بچوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی شامل تھے، جنہیں محض اُن کے مذہب کی وجہ سے اس طرح کی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں شرعی عدالتیں قائم ہیں اور مختصر سی عدالتی کارروائی کے بعد ہی موت کی سزائیں سنا دی جاتی ہیں۔
      ایمنسٹی نے کہا ہے کہ نورالدین زنکی موومنٹ اور القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے شامی گروپ النصرہ فرنٹ کی جانب سے بھی تشدد کے وہی طریقے اپنائے جاتے رہے ہیں، جن کے بارے میں اکثر کہا جاتا رہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت ویسے طریقے روا رکھتی رہی ہے۔یہ بات شام میں سرگرم کارکنوں کے حوالے سے بتایاگیا ہے ۔ رپورٹ میں نور الدین زنکی موومنٹ، لیوانت فرنٹ اور ’سولہویں ڈویژن‘ کے ساتھ ساتھ سخت گیر موقف رکھنے والا گروپ احرار الاسلام اور النصرۃ فرنٹ جیسےباغی گروپوں کا خاص طور پر نام لے کر ذکر کیا گیا ہے۔
      قبل ازیں امریکی ’انسٹیٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار‘ نے فروری میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ان میں سے پہلے تین گروپ نور الدین زنکی موومنٹ، لیوانت فرنٹ اور ’سولہویں ڈویژن‘ وہ گروپ ہیں، جنہیں امریکی حکومت ماضی میں امداد اور تعاون دیتی رہی ہے یا اب بھی دے رہی ہے۔ ایمنسٹی نے حلب میں اسپتال کے ایک منصوبے سے وابستہ انسانی امداد کے ایک کارکن کی کہانی بیان کی ہے۔ اسے نورالدین زنکی موومنٹ نے جولائی 2014 میں اغوا کر لیا تھا۔ اپنی رہائی کے بعد اس نے بتایا کہ اُس پر اتنا تشدد کیا گیا تھاکہ اُس نے مجبور ہو کر اس موومنٹ کے تیار کردہ ایک اعترافی بیان پر دستخط کر دیے تھے۔
      ایمنسٹی کے مطابق باغی گروپوں کی طرف سے اغوا کی وارداتوں کا نشانہ بننے والوں میں حلب کے کرد فورسز کے زیر انتظام ایک ضلع شیخ مقصود کی کرد اقلیت کے ارکان کے ساتھ ساتھ مسیحی پادری بھی شامل تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے پروگرام برائے مشرقِ وُسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ڈائریکٹر فلپ لُوتھر کے مطابق باغیوں کے زیر انتظام علاقوں کے شامی حکومت سے تنگ آئے ہوئے شہریوں نے شروع شروع میں باغیوں کا خیر مقدم کیا تھا لیکن اب یہی باغی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
      First published: