ہوم » نیوز » عالمی منظر

امیر ممالک مہاجروں کو پناہ دینے میں غریب ملکوں سےبہت پیچھے: ایمنسٹی

ايمنسٹی انٹرنيشنل کی ايک تازہ رپورٹ ميں جو آج یہاں جاری کی گئی ہے، پناہ گزينوں کی اس غير منصفانہ تقسيم پر امير ملکوں پر کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 04, 2016 08:53 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
امیر ممالک مہاجروں کو پناہ دینے میں غریب ملکوں سےبہت پیچھے: ایمنسٹی
نائیجیریا میں ایمنسٹی کی سربراہ اوسائی اوزیغو نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ قانون نافذ کروانے کے لئے فضائی حملے کرنا کوئی دانشمندانہ آپشن نہیں ہے۔

لندن۔  دنيا ميں اس وقت موجود قريب دو کروڑ دس لاکھ مہاجرین میں چھپن فيصد مہاجرین دس ممالک ميں پناہ گزیں ہیں جن کی مدد ميں غريب ممالک پیش پیش اور امير ملک بہت پيچھے ہیں ۔ ايمنسٹی انٹرنيشنل کی ايک تازہ رپورٹ ميں جو آج یہاں جاری کی گئی ہے، پناہ گزينوں کی اس غير منصفانہ تقسيم پر امير ملکوں پر کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے۔انسانی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والی اس عالمی تنظيم نے غير منصفانہ تقسيم کے اس مسئلے کے حل کے ليے ايک تجويز پيش کی ہے جس کے مطابق ہر سال پناہ گزينوں کی مجموعی تعداد کے دس فيصد حصے کو مختلف ممالک ميں بسايا جا سکتا ہے۔ ايمنسٹی نے انکشاف کيا ہے کہ مسلح تنازعات کا شکار ہونیوالے ملکوں کے پڑوسی ممالک پناہ گزينوں کا سب سے زيادہ بوجھ اٹھا رہے ہيں۔


اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين کے مطابق شام، افغانستان، برونڈی، جنوبی سوڈان اور ديگر ممالک ميں جاری مسلح تنازعات کے سبب اس وقت عالمی سطح پر پناہ گزينوں کی مجموعی تعداد لگ بھگ دو کروڑ دس لاکھ 30 ہزار ہے۔ اس ميں سے چھپن فيصد اردن، لبنان، ترکی، پاکستان، ايران، چاڈ، ايتھيوپيا، کينيا، يوگينڈا، کانگو اور ايران ميں پناہ گزیں ہيں۔ يو اين ايچ سی آر کے ترجمان وليم اسپنڈلر نے اس بارے ميں جاری کردہ ايک حاليہ بيان ميں کہا، ’’مہاجرين کو پناہ فراہم کرنے کی ذمہ داری اس وقت غير منصفانہ بنيادوں پر تقسيم ہے۔‘‘ ايمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق پناہ گزينوں کی غير منصفانہ تقسيم مہاجرين کے بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے کيونکہ کئی ميزبان ممالک غريب ممالک ہيں اور وہ پناہ گزينوں کی ضروريات پوری نہيں کر پاتے۔ نتيجتاً پناہ گزين يورپ اور آسٹريليا جانے کے ليے خطرناک راستے اختيار کرتے ہيں۔


ايمنسٹی انٹرنيشنل ميں عالمی امور کے ڈائريکٹر اوڈری گوگہرن کے حوالے سےآن لائن میڈیا میں خبر ہے کہ مہاجر بچوں کو تعليم کی سہولت ميسر نہيں اور لوگوں کو خوراک نہيں مل رہی۔ ادارے کے سيکرٹری جنرل سليل شيٹی کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ يہ نہيں کہ پناہ گزينوں کی تعداد کتنی ہے بلکہ اہم مسئلہ يہ ہے کہ دنيا کے امير ترين ممالک مستحق مہاجرین کو مدد اور پناہ فراہم کر نے میں سب سے پیچھے دکھائی دے رہے ہیں۔


First published: Oct 04, 2016 08:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading