உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پچھلے سال 90 فیصد پھانسیاں ایران، پاکستان اور سعودی عرب میں دی گئیں

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    نیویارک۔ گزشتہ سال 90 فیصد پھانسیاں ایران، پاکستان اور سعودی عرب میں دی گئی ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نیویارک۔ گزشتہ سال 90 فیصد پھانسیاں ایران، پاکستان اور سعودی عرب میں دی گئی ہیں۔یہ اعداد و شمار ایمنسٹی انٹر نیشنل کی ایک رپورٹ میں فراہم کئے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے اس ادارے کے مطابق 2015 میں عالمگیر سطح پر پھانسی دینے کے رجحان اور تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایمنسٹی کی جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2015 میں پوری دنیا میں کوئی 1634 لوگوں کو پھانسی دی گئی ہے 2014 میں یہ تعداد 573 تھی۔


      ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ وہ تعداد ہے، جن کا ریکارڈ منظر عام پر لایا گیا کیوں کہ چین اور ویت نام پھانسیوں کو 'سرکاری راز' کی طرح خفیہ رکھتے ہیں. ایمنسٹی کے مطابق 1989 کے بعد سے (جب سے ایمنسٹی نے پھانسیوں کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا ہے) اس تعداد میں قابل غور اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2015 میں ایران میں کم از کم 977 افراد کو پھانسی دی گئی، جبکہ 2014 میں یہ تعداد 743 تھی۔ پاکستان میں گذشتہ برس 320 سے زیادہ افراد کو پھانسی دی گئی جبکہ سعودی عرب میں 158 افراد کو پھانسی دی گئی۔


      ایران اور پاکستان میں جہاں ایسے لوگوں کو بھی پھانسی دی گئی، جن کی عمر جرم کے وقت 18 سال سے کم تھی وہیں سعودی عرب میں پھانسیوں کی تعداد میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
      پاکستان میں جن لوگوں کو پھانسی دی گئی ان میں سے زیادہ تر پر دہشت گردی کے الزامات نہیں تھے اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کم ازکم 2 یا اس سے زیادہ افراد اُس وقت نابالغ تھے، جب انھوں نے جرم کیا تھا۔

      First published: