عوام ہے مہنگائی سے پریشان، پھربھی نیوکلیئربم بنانےمیں مصروف ہے پاکستان

وزارت دفاع کے سالانہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ پاکستان کے اقتصادی بحران اورعوام کے بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان ہونے کے بعد بھی وہ اپنی نیوکلیئراورمیزائل کی صلاحیت بڑھانے کے خفیہ پروگراموں میں مصروف ہے۔

Jul 19, 2019 12:03 AM IST | Updated on: Jul 19, 2019 12:10 AM IST
عوام ہے مہنگائی سے پریشان، پھربھی نیوکلیئربم بنانےمیں مصروف ہے پاکستان

خراب اقتصادی حالات کے باوجود نیوکلیئربم بنانے میں مصروف ہے پاکستان۔ عمران خان: فائل فوٹو

پاکستان زبردست اقتصادی بحران سے پریشان ہے۔ جہاں پاکستان کے شہریوں کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں، پھر بھی پاکستان کی اعلی کمان بے حیائی سے اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے میں مصروف ہے۔ وزارت دفاع کی سالانہ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی فوجی طاقت کو بڑھانے کی رفتارکم نہیں پڑی ہے۔ وہ مسلسل اپنی ملٹری طاقت، خاص طورپرمیزائل اورجوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے۔

وزارت دفاع کی سالانہ رپورٹ 2019-2018 میں اس کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ اقتصادی بھران سے جدوجہد کے ساتھ ہی پاکستان میں سیاسی حالات بھی چیلنجز سےپرہیں اورپاکستان کی فوج نے الیکشن کے بعد پاکستان کی بیرون ممالک، سیکورٹی اوردفاعی حکمت عملی کو چلانے والے اداروں کے طورپراپنی حالت کو مزید مضبوط کرلیا ہے۔ اقتصادی بحران کے باوجود پاکستان اپنی فوجی طاقت خاص طورپرمیزائل اورجوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کو بڑھنے میں مصروف ہے۔

Loading...

پاکستان کی اس حرکت پرہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں کی باریک نظرہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے اورفوج نے جہادی اور بین الاقوامی ممنوعہ تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے، جس کے سبب ان تنظیموں کی دہشت گردی آج بھی ہندوستان جیسے پاکستان کے پڑوسیوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ یہی نہیں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج مسلسل دہشت گردانہ تنظیموں کی حمایت کررہی ہے اورسرحد پارسے سیزفائرکی خلاف ورزی کی آڑمیں دہشت گردوں کوجموں وکشمیرمیں دراندازی کرا رہی ہے۔

سرحد پارکے دہشت گردوں کی ٹریننگ اوردراندازی کی کوشش مسلسل جاری ہے، لیکن ہندوستانی فوج کی چوکسی کے سبب گزشتہ سال کے مقابلے اس سال دراندازی کے واقعات میں زبردست کمی آئی ہے۔ 2018 میں فوج نے 15 دراندازی کی کوششوں کوناکام کیا، جس نے 35 دہشت گردوں کومارگرایا گیا تو وہیں سال 2017 میں 33 دراندازی کی کوششوں کو ناکام کرتے ہوئے 59 دہشت گردوں کو ڈھیرکیا تھا۔ وادی میں فوج، پولیس اورنیم فوجی دستوں کے آپسی تعاون کے سبب پورے سال کامیاب آپریشن کئے گئے۔

 

Loading...