உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UN نے افغان بحران پر ظاہر کی تشویش، جنرل سکریٹری نے کہا-ایک دھاگے پر قائم ہے افغانستان، ایسے ہی نہیں چھوڑ سکتے

    افغانستان کے سنگین بحران پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش۔

    افغانستان کے سنگین بحران پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش۔

    اقوام متحدہ میں چین کے سفیر ژانگ جون (Zhang Jun) نے ایک خاتون کے معاملے کا حوالہ دیا جس نے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے ’اپنی دو بیٹیاں اور ایک کڈنی بیچ دی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک انسانی المیہ ہے،’ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ’یکطرفہ پابندیاں‘ ہٹائے اور افغان اثاثوں پر پابندیاں نرم کرے۔‘

    • Share this:
      جنیوا: افغانستان (Afghanistan) کے بحران کو لے کر اقوم متحدہ (United Nation) بہت زیادہ تشویش کا اظہار کررہا ہے اور عالمی تنظیم کے سربراہ کی جانب سے طالبان سے اپیل کی گئی ہے کہ اسے خواتین اور بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کو قائم رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوٹریس (Antonio Guterres) نے بین الاقوامی برادری (International Community) سے پابندی لگائے گئے افغانستان کی امداد کو دوبارہ جاری کرنے کی بھی اپیل کی تا کہ وہاں پر سامان خریدنے کے لئے افغان شہریوں کو اپنے بچوں کو بیچنے کے لئے مجبور نہ ہوناپڑے۔

      سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے خبردار بھی کیا کہ ’افغانستان ایک دھاگے سے لٹک رہا ہے‘کیونکہ لاکھوں غریب شہری بگڑتے ہوئے انسانی حالات کے درمیان زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ گوٹیرس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم طالبان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ہر لڑکی اور عورت کے بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کرکے بین الاقوامی اعتماد اور خیر سگالی حاصل کریں۔

      ’بین الاقوامی برادری مدد جاری کرے‘
      انہوں نے خاتون کارکنوں کی من مانی گرفتاریوں اور اغوا کی حالیہ رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کی رہائی کی پرزور اپیل کرتا ہوں۔ ساتھ ہی، سیکرٹری جنرل نے یہ بھی کہا کہ ’میں عالمی برادری سے افغانستان کے لوگوں کے لیے امداد میں اضافہ کرنے کی بھی اپیل کرتا ہوں‘جس میں عالمی بینک اور امریکی حکومت کی طرف سے روکے گئے امدادی رقوم کا اجرا شامل ہے۔

      گوٹیرس نے اقوام متحدہ کی کونسل کو بتایا کہ نصف سے زیادہ افغان عوام کو ’بھوک کی انتہائی سطح‘ کا سامنا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ’کچھ خاندان کھانا خریدنے کے لیے اپنے بچوں کو بیچ رہے ہیں۔‘

      ’امریکہ یکطرفہ پابندیاں ہٹائے‘
      اقوام متحدہ میں چین کے سفیر ژانگ جون (Zhang Jun) نے ایک خاتون کے معاملے کا حوالہ دیا جس نے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے ’اپنی دو بیٹیاں اور ایک کڈنی بیچ دی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک انسانی المیہ ہے،’ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ’یکطرفہ پابندیاں‘ ہٹائے اور افغان اثاثوں پر پابندیاں نرم کرے۔‘

      افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی ایلچی ڈیبورا لیون نے ویڈیو لنک کے ذریعے کونسل کو بتایا کہ اقوام متحدہ مسلسل ’پابندیوں میں نرمی‘ کا مطالبہ کر رہا ہے جو معیشت کو نچوڑنے اور ضروری خدمات کی مکمل فراہمی کو روکتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: