உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Apple:ایپل کو10 سال پرانے معاملے میں عدالت سے لگا جھٹکا،2.4 ارب روپے ملازمین کو دینے ہوں گے

    ایپل کمپنی کو لگا عدالت سے بڑا جھٹکا۔ (تصویر: فائل فوٹو)

    ایپل کمپنی کو لگا عدالت سے بڑا جھٹکا۔ (تصویر: فائل فوٹو)

    Apple: والمارٹ اور ایمزون ڈاٹ کام بھی ان بڑے امریکی آجروں میں شامل ہیں جو اسی طرح کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    • Share this:
      Apple:مشہور ٹیک کمپنی ایپل کو کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت سے جھٹکا لگا ہے۔ تقریباً ایک دہائی پرانے کیس میں کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت نے ملازمین کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔ کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت کے جج نے ایپل کو تقریباً ایک دہائی پرانے مقدمے میں 2.42 بلین روپے (30.5 ملین ڈالر) ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی نے ایپل اسٹور کے 15,000 ملازمین کو اس وقت کی ادائیگی نہیں کی ہے جو وہ شفٹوں کے بعد سیکیورٹی چیک میں ضائع ہوئے تھے۔ اب اس کیس میں عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ایپل کمپنی کو سیکیورٹی چیک میں وقت گنوانے والے ملازمین کو 2.42 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

      ہفتے کے روز سان فرانسسکو میں امریکی ڈسٹرکٹ جج ولیم السوپ نے 2013 کے کیس میں تصفیہ کی منظوری دی۔ کیلیفورنیا میں سپریم کورٹ نے 2020 میں اس کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ ملکی قانون کے مطابق ملازمین کو لازمی سیکیورٹی چیک سے گزرنے پر انہیں ادائیگی کی ضرورت ہوتی ہے۔

      والمارٹ اور امیزون پر بھی ہوچکا ہے اسی طرح کا کیس
      والمارٹ اور ایمزون ڈاٹ کام بھی ان بڑے امریکی آجروں میں شامل ہیں جو اسی طرح کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایمیزون اور ایک اسٹافنگ ایجنسی نے پچھلے سال 42,000 وئیرہاوز ورکرز کو 8.7 ملین امریکی ڈالر (69.20 کروڑ روپے) ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا تاکہ ایسے معاملات میں سے ایک کو حل کیا جا سکے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      چنئی ایئرپورٹ پر پکڑا گیا بینکاک کا مسافر، جانچ کی تو ملا کچھ ایسا افسران کے اڑ گئے ہوش

      یہ بھی پڑھیں:
      Gun Firing: امریکی کیپیٹل کے قریب بندوق سے ہوئی فائرنگ، کار کی ٹکر، ایک شخص کی موت

      ایپل کے معاملے میں، مدعی نے دعویٰ کیا کہ اسٹور کے کارکن اکثر شفٹیں ختم ہونے کے بعد سیکیورٹی چیک کے لیے کئی منٹ اور بعض اوقات زیادہ انتظار کرتے ہیں۔ اس سے اچھا ہو کہ جس اسٹور میں وہ کام کرتے ہیں، وہاں سے نکلنے سے پہلے ان کی جانچ کرلی جائے۔ حالانکہ ایپل اور مدعیان کے وکلاء نے، تبصرے کی درخواستوں کا اس وقت کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: