ہوم » نیوز » عالمی منظر

اسرائیل پر خصوصی عدالت میں مقدمہ چلانے کا عرب لیگ کا مطالبہ

قاہرہ : اسرائیل کےخلاف عرب لیگ نے ایک خصوصی فوج داری عدالت میں مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 22, 2016 11:15 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اسرائیل پر خصوصی عدالت میں مقدمہ چلانے کا عرب لیگ کا مطالبہ
قاہرہ : اسرائیل کےخلاف عرب لیگ نے ایک خصوصی فوج داری عدالت میں مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

قاہرہ : اسرائیل کےخلاف عرب لیگ نے ایک خصوصی فوج داری عدالت میں مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اسرائیل کے اس تازہ اعلان کے جواب میں لیگ کے سربراہ نبیل العربی کی طرف سے کیا گیا ہے۔ اس مطالبے کا محرک اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا وہ اعلان ہے جس مین انہوں نے کہا تھا کہ گولان کا مقبوضہ پہاڑی علاقہ اسرائیل اب کبھی بھی نہیں چھوڑے گا۔

عرب لیگ نے جس میں سر دست شام شامل نہیں کل اتفاقِ رائے سے وہ قرار داد منظور کر لی، جس میں اسرائیل کی مذمت کی گئی ہے اور ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کی پاسداری کے لیے مجبور کرے۔ اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم روس کے دورے پر ہیں۔

قاہرہ میں 22 عرب ممالک کے وفود کے ایک اجلاس میں اس اسرائیلی اعلان کی مذمت کی گئی ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں گولان کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا، جب کہ 1981ء میں اسے باقاعدہ طور پر اپنا حصہ بنا لیا تھا۔ اقوام متحدہ اس علاقے کو مقبوضہ قرار دیتی ہے اور اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتی۔

عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے ایک خصوصی فوجداری عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ اتوار کو کہا تھا کہ گولان کا مقبوضہ علاقہ ہمیشہ اسرائیل کے پاس رہے گا۔

بائیس رُکنی عرب لیگ کا اجلاس قاہرہ میں ہوا، جہاں اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے اسرائیل نے 1967 میں شام، مصر اور اُردن کے ساتھ لڑی جانے والی مشرقِ وُسطیٰ جنگ میں گولان کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور 1981ء میں اسے باقاعدہ طور پر اپنے ریاستی علاقے میں شامل کر لیا تھا گو اس الحاق کو بین الاقوامی برادری نے آج تک تسلیم نہیں کیا ہے۔

مسٹر یاہو نے اپنی کابینہ کا ایک اجلاس گولان ہی میں منعقد کیا تھا، جہاں اُنہوں نے مذکورہ اعلان کیا۔ دراصل اسرائیل کو خدشہ ہے کہ جنگ زدہ شام کے مستقبل اور وہاں قیام امن کے لیے آج کل جو کوششیں ہو رہی ہیں، اُن کے دوران اسرائیل پر گولان کا علاقہ واپس شام کو دینے کے لیے بھی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔
قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس کے آغاز پر نبیل العربی نے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے طرزِ عمل سے ایسا لگتا ہے، گویا وہ خود کو ’قانون اور احتساب سے بالاتر سمجھتا ہو‘۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی مسئلے کے لیے بھی اُسی طرز پر ایک خصوصی فوجداری عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے، جیسے کہ ’سابق یوگوسلاویہ، روانڈا، کمبوڈیا اور سیرا لیون‘ کے سابقہ حکام کے خلاف مقدمے چلانے کے لیے بین الاقوامی ٹریبیونل قائم کیے جا چکے ہیں۔
First published: Apr 22, 2016 11:15 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading