ہوم » نیوز » عالمی منظر

وقو ف عرفہ مکمل، مفتی اعظم کی فتنے اور فساد کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل

عرفات۔ حج کا سب سے بڑا رکن وقوف عرفہ آج مکمل ہوگیا، اس دوران حج کا خطبہ دیتے ہوئے سعودی عرب کے مفتی اعظم نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے ان طاقتوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی اپیل کی جو اسلام کی غلط تشریح پیش کرکے امت مسلمہ کو فتنے اور فساد میں مبتلا کررہے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 23, 2015 07:06 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
وقو ف عرفہ مکمل، مفتی اعظم کی فتنے اور فساد کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل
عرفات۔ حج کا سب سے بڑا رکن وقوف عرفہ آج مکمل ہوگیا، اس دوران حج کا خطبہ دیتے ہوئے سعودی عرب کے مفتی اعظم نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے ان طاقتوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی اپیل کی جو اسلام کی غلط تشریح پیش کرکے امت مسلمہ کو فتنے اور فساد میں مبتلا کررہے ہیں۔

عرفات۔ حج کا سب سے بڑا رکن وقوف عرفہ آج مکمل ہوگیا، اس دوران حج کا خطبہ دیتے ہوئے سعودی عرب کے مفتی اعظم نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے ان طاقتوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی اپیل کی جو اسلام کی غلط تشریح پیش کرکے امت مسلمہ کو فتنے اور فساد میں مبتلا کررہے ہیں۔


قبل ازیں، آج صبح سے ہی منی سے عازمین حج کے قافلے میدان عرفات پہنچنے لگے تھے۔ بسوں، کاروں کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ پیدل بھی میدان عرفات پہنچے۔ ہرطرف لبیک اللہم لبیک کی صدا گونج رہی تھی۔ لوگوں نے میدان عرفات میں رو روکر اللہ سے اپنی ، اپنے اہل و عیال ، اعزہ و اقارب اور مسلمانو ں کی مغفرت کے لئے دعائیں مانگیں۔میدان عرفات میں ہر طرف اور بالخصوص جبل رحمت پر عقیدت مندوں کا بے پناہ ہجوم تھا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع دیا تھا۔



میدان عرفات میں واقع مسجد نمرہ میں آج سعودی مفتی اعظم شیح عبدالعزیز آ ل شیخ نے حج کا خطبہ دیا۔انہوں نے کہا ہے کہ اسلام کے دشمن پوری دنیا میں موجود ہیں،جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اس کی جڑیں کمزور کرنے میں مصروف ہیں،آج امت میں فساد پھیل چکا اور اخلاص ختم ہوچکا ہے،داعش اسلام کے نام پر مسلم امہ کو تباہ کرنے میں مصروف ہے،وہ ایک گمراہ گروہ ہے،جو اسلام کی غلط تشریح پیش کررہا ہے، مسلمانوں کو فتنے اور فساد کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔


مفتی اعظم نے کہا ہے کہ اسلامی ریاستوں پر حملہ کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، امت مسلمہ اختلافات بھلا کر ایک ہوجائے، تفرقہ کی وجہ سے غیر مسلم غالب ہیں۔انہوں نے کہا کہ یمن میں ایک گروہ گمراہی کے راستے پر گامزن ہے، گمراہ لوگوں نے مساجد کو بھی نہیں چھوڑا، دین سے گمراہ لوگ اسلام کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں۔



واضح رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں نے حکومت کا تختہ الٹ کر دارالحکومت پر قبضہ کیا تھا، باغیوں کے خلاف سعودی عرب کارروائیاں کر رہا ہے۔ شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے مزید کہا کہ داعش اسلام کے نام پر امت مسلمہ کو تباہ کرنے کی سازش کر رہی ہے، آج کے زمانے میں فتنہ پھیل چکا ہے،انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کا ظلم حرام قرار دیا۔ خیال رہے کہ داعش نامی شدت پسند تنظیم نے شام اور عراق کے بڑے رقبے پر قبضہ کرکے الدول الاسلامیہ کے نام سے ریاست قائم کی ہے جبکہ ابوبکر البغدادی کو اپنا خلفیہ بنایا ہے۔


فلسطین کے متعلق مفتی اعظم نے کہا کہ یہودیوں نے انسانیت کو پامال کررکھا ہے، مسجد اقصیٰ مسلمانوں کو پکار رہی ہے۔سعودی مفتی اعظم نے کہا کہ اسلام کے دشمن مسلمانوں کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں، اسلام کسی بے گناہ کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا، غیر مسلموں کو بھی قتل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ مسلمانوں کو انہوں نے تلقین کی کہ فساد پیدا کرنے والے گروہوں سے مسلمان دور رہیں،گمراہ جماعتیں انسان کو پستی میں دھکیلنا چاہتی ہیں، مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کرتا۔ انہوں نے دعا کی کہ جو مسلمان حالت جنگ میں ہیں، ان کے علاقوں میں اللہ امن قائم کر دے۔شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے کہا کہ اسلام کے داخلی اور خارجی دشمنوں سے باخبر رہنا ہوگا، مسلمان مخالف اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔


علم کے حصول پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علم حاصل کر کے ہی اسلام دشمنوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے، تمام مسلمان نظام تعلیم بہتر کرنے کی کوشش کریں۔مسلم حکمرانوں پر زور دیتے ہوئے شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے کہا کہ مسلم حکمران اپنی رعایا کا خیال کریں، حکمران کوشش کریں کہ مسلمانوں کے درمیان محبت قائم رہے۔ مفتی اعظم نے کہا کہ اصل زندگی آخرت کی ہی ہے،دنیاوی حیات عارضی ہے، قرآن اور حدیث کے مطابق زندگی گزارنا ہر مسلمان پر لازم ہے، دین اسلام کو تمام مذاہب پر برتری حاصل ہے، دین اسلام نے انسانوں کو یکجا اور متحد کیا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک صحیح دین اسلام ہی ہے۔


خیال رہے کہ 1941 میں پیدا ہونے والے سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیزبن عبداللہ آل شیخ کا یہ مسلسل 35 واں خطبہ حج تھا، انہوں نے 1981ء میں پہلی بار خطبہ حج دیا تھا جبکہ وہ 1999ء سے سعودی عرب کے مفتی اعظم ہیں۔ خطبہ حج کے بعد حجاج نے نماز ظہر و عصر ایک ساتھ ادا کی ۔


عرفات میں دن بھر قیام اور سورج غروب ہونے کے بعد حجاج کرام کی اگلی منزل مزدلفہ ہوگی جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں گے اور رات بھر قیام کریں گے۔
مزدلفہ میں وہ کنکریاں چنیں گے اور فجرکی نماز ادا کرنے کے بعد منی کے لئے روانہ ہوں گے۔ جہاں بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے، قربانی کرنے اور حلق کرانے کے بعد احرام اتار دیں گے اور دیگر مناسک حج ادا کریں گے۔


خیال رہے کہ مناسکِ حج کی ادائیگی کا سلسلہ 8 ذی الحجہ سے شروع ہوتا ہے جو 12 ذوالحج تک جاری رہتا ہے۔آٹھ ذوالحج کو عازمین مکہ مکرمہ سے منیٰ کی جانب سفر کرتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں۔نو ذوالحج کو فجر کی نماز کے بعد عازمینِ حج منیٰ سے میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں وقوفہ عرفہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔عرفات میں غروبِ آفتاب تک قیام لازمی ہے اور اس کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں پر مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں اور رات بھر یہاں قیام ہوتا ہے۔
دس ذوالحج قربانی کا دن ہوتا ہے اور عازمین ایک مرتبہ پھر مزدلفہ سے منیٰ آتے ہیں، جہاں قربانی سے قبل شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔


مزدلفہ سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً نو کلو میٹر ہے اور یہاں پر عازمین مخصوص مناسک کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ جاکر ایک طوافِ زیارت کرتے ہیں اور منیٰ واپس آجاتے ہیں۔گیارہ اور بارہ ذوالحج کو تمام مناسک سے فارغ ہونے کے بعد عازمین ایک مرتبہ پھر مکہ مکرمہ جا کر مسجد الحرم میں الوداعی طواف کرتے ہیں۔

First published: Sep 23, 2015 06:29 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading