உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سعودی عرب میں ملے زمین میں دفن 2000 سال پرانی ریاستیں، اولڈ ٹیسٹا مینٹ میں ہے ان کا ذکر

    فرانسیسی اور سعودی ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم اب دادان اور لحیان تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے پانچ مقامات کی کھدائی کر رہی ہے۔ یہ تہذیبیں تقریباً 2000 سال قبل اس علاقے میں پروان چڑھی تھیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان تہذیبوں کے خاتمے کی وجہ کیا تھی۔

    فرانسیسی اور سعودی ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم اب دادان اور لحیان تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے پانچ مقامات کی کھدائی کر رہی ہے۔ یہ تہذیبیں تقریباً 2000 سال قبل اس علاقے میں پروان چڑھی تھیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان تہذیبوں کے خاتمے کی وجہ کیا تھی۔

    فرانسیسی اور سعودی ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم اب دادان اور لحیان تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے پانچ مقامات کی کھدائی کر رہی ہے۔ یہ تہذیبیں تقریباً 2000 سال قبل اس علاقے میں پروان چڑھی تھیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان تہذیبوں کے خاتمے کی وجہ کیا تھی۔

    • Share this:
      ریاض: سعودی عرب (Saudi Arabia) کے شمال مغربی حصے میں واقع العلا (AlUla) کی پہاڑیوں میں کھوئی ہوئی سلطنتیں ملی ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ (Archaeologists) کی ٹیم ان ریاستوں سے متعلق باقیات کی معلومات کے لیے 24 گھنٹے کھدائی کر رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان ریاستوں کا تعلق دادان اور لحیانیت کی سلطنتوں (Lihyanite kingdom) سے جڑا ہے۔ اس پروجیکٹ سے وابستہ رائل کمیشن نے بتایا کہ پرانے عہد نامے میں دادان کا ذکر ہے جبکہ لحیان اپنے وقت کی سب سے بڑی سلطنت تھی۔

      العلا سعودی عرب کا ایک مشہور سیاحتی مقام ہے جسے 2019 میں عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ اسے قدیم عرب کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر العلا مدین صالح کے عظیم الشان مقبروں کے لیے جانا جاتا ہے۔ مدین صالح سعودی عرب کا پہلا عالمی ثقافتی ورثہ ہے جسے یونیسکو نے تسلیم کیا ہے۔ اس جگہ کو عرب کے قدیم باشندوں یعنی نباطین نے چٹانیں کاٹ کر تعمیر کیا تھا۔ ان لوگوں نے ہی پیٹرا بھی بنایا جو موجودہ اردن میں واقع ہے۔

      فرانسیسی اور سعودی ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم اب دادان اور لحیان تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے پانچ مقامات کی کھدائی کر رہی ہے۔ یہ تہذیبیں تقریباً 2000 سال قبل اس علاقے میں پروان چڑھی تھیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان تہذیبوں کے خاتمے کی وجہ کیا تھی۔ دادان آثار قدیمہ کے مشن کے شریک ڈائریکٹر عبدالرحمن الصہیبانی نے کہا کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو واقعی ان تہذیبوں کے رازوں سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔

      فرانس کے قومی مرکزبرائے سائنسی تحقیق کے محقق جیروم روہمر نے بتایا کہ ’’ماضی میں کی گئی کھدائیاں ایک اہم پناہ گاہ کے علاقے تک محدود تھیں۔اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس جگہ کے تسلسل،خاکے،اس کی مادی ثقافت، اس کی معیشت کا جامع جائزہ لیاجائے۔‘‘

      ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک جامع منصوبہ ہے جہاں ہم بنیادی طور پران تمام سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

      ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سعودی عرب کی معیشت اور معاشرت کو تبدیل کرنے کے لیے پیش کردہ وسیع تراصلاحات کے حامل ویژن 2030 میں العُلا کو خاص اہمیت حاصل ہوئی ہے۔حکومت مملکت میں سیاحت کے فروغ پرتوجہ مرکوزکر رہی ہے کیونکہ وہ دنیا کے سامنے کھلنے اور تیل کی آمدن سے ماورااپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

      العُلا کو ترقی دینے کا منصوبہ دراصل غیرمسلم سیاحوں کوراغب کرنے اور قومی تشخص کو مستحکم کرنے کے لیے قبل ازاسلام کے ثقافتی ورثہ اور تاریخی آثارکو محفوظ کرنے کے اقدام کا حصہ ہے۔

      اس کی سرحدیں جنوب میں مدینہ سے شمال میں جدید دور کے اردن میں عقابہ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ 100 عیسوی تک تقریباً 900 سال تک دونوں ریاستوں نے اہم تجارتی راستے کو کنٹرول کیا۔ لیکن ان دونوں ریاستوں کے بارے میں بہت کم معلومات عام ہیں۔ (ایجنسی ان پٹ)
      Published by:Sana Naeem
      First published: