ہوم » نیوز » عالمی منظر

لائیو پارلیمنٹ سیشن کے دوران ممبر پارلیمنٹ نے پارٹنر کے پرائیویٹ پارٹ پر کیا کس ، مچا ہنگامہ ، دینا پڑا استعفی

ارجنٹینا میں ایک ممبر پارلیمنٹ کو اس لئے معطل کردیا گیا ، کیونکہ وہ آن لائن پارلیمنٹ سیشن کی کارروائی کے دوران ہی اپنے پارٹنر کے پرائیویٹ پارٹ کو کس کرنے لگے تھے ۔ بتادیں یہ ویڈیو یوٹیوب چینل کے ذریعہ لائیو نشر بھی ہوگیا ۔

  • Share this:
لائیو پارلیمنٹ سیشن کے دوران ممبر پارلیمنٹ نے پارٹنر کے پرائیویٹ پارٹ پر کیا کس ، مچا ہنگامہ ، دینا پڑا استعفی
فوٹو کریڈٹ : ٹویٹر ۔

کورونا وبا کی وجہ سے ارجنٹینا میں ان دنوں پارلیمنٹ سیشن کی کارروائی آن لائن چل رہی ہے ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک ممبر پارلیمنٹ جوآن ایمیلیو امیری آن لائن سیشن کے دوران ہی اپنے پارٹنر کے پرائیویٹ پارٹ کو کس کرنے لگے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ارجنٹینا کے ایوان زیریں کے سبھی اراکین اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب ایک ممبر پارلیمنٹ مباحثہ کے دوران ہی پارٹنر کے پرائیویٹ پارٹ کا بوسہ لینے لگے ۔ اس کے بعد انہیں اس رویہ کی وجہ سے معطل کردیا گیا اور بعد میں اس معاملہ میں ممبر پارلیمنٹ کو اپنی وضاحت بھی پیش کرنی پڑ گئی ۔


اس معاملہ میں ممبر پارلیمنٹ امیری نے بعد میں ایک ریڈیو انٹرویو میں معافی مانگی ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ اس وقت وہ لائیو ہیں ۔ اس کے بعد ممبر پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں پارٹنر کے پستان کی سرجری ہوئی تھی ۔ اسی وجہ سے میں نے اس کو پاس بلایا اور پوچھا کہ سرجری کے بعد ان کے امپلانٹس کیسے ہیں ۔ اس کے بعد ہی میں نے اس کو نزدیک بلایا اور اس کے پستان پر بوسہ لے لیا ۔ ممبر پارلیمنٹ کو بھلے ہی لگا کہ وہ آف لائن تھے ، لیکن اس کے بعد فوٹیج فورا وائرل ہوگیا ۔ اس دوران ممبر پارلیمنٹ کے اس رویہ کو نہ صرف دوسرے اراکین پارلیمنٹ نے بلکہ اس دوران ایوان کی کارروائی دیکھ رہے سبھی لوگوں نے بھی دیکھا ۔


اہم بحث کے دوران پیش آیا یہ واقعہ


بتا دیں کہ ایوان میں پینشن فنڈ سرمایہ کاری کے بارے میں جاری ایک مباحثہ کے دوران یہ واقعہ پیش آیا اور یہ سارا واقعہ آن لائن کے زمانے میں ٹی وی و یوٹیوب چینل کے ذریعہ لائیو نشر ہوگیا ۔ اس واقعہ کے بعد ممبر پارلیمنٹ جوآن ایمیلیو امیری نے دعوی کیا کہ انہیں لگا کہ وہ واقعہ کے دوران آف لائن تھے ۔ لیکن ایوان زیریں کے اسپیکر سرجیو مسسا کے ذریعہ حکم دینے کے بعد انہیں استعفی دینا پڑا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 27, 2020 03:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading