உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine War:یوکرین کے صدر زیلنسکی کا دعویٰ-روس سے جاری جنگ میں 1300 یوکرینی فوجی مارے گئے

    روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں آئی شدت۔

    روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں آئی شدت۔

    Russia Ukraine War: روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری ہے۔ یوکرین کے کئی شہر کھنڈرات بن گئے، ہسپتالوں سے لے کر رہائشی علاقوں تک ہر طرف روس نے گولہ باری کی ہے۔

    • Share this:
      کیف:Russia Ukraine War: روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا آج 17 واں دن ہے۔ نہ روسی فوج پیچھے ہٹنے کو تیار ہے اور نہ ہی یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ہار ماننے کو تیار ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ جنگ کب تک جاری رہے گی۔ اس دوران ایک بڑی خبر جو سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ خبر رساں ایجنسی اے ایف ایف آئی نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی (Ukraine President Volodymyr Zelensky) کے حوالے سے کہا ہے کہ روس کے ساتھ جاری جنگ میں تقریباً 1300 یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔



      یہ بھی پڑھیں:
      Russia-Ukraine War:یوکرین کے صدر زیلنسکی نے پوتن کے ساتھ میٹنگ کی رکھی تجویز

      زیلنسکی نے ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ روسی حملے کے آغاز سے لے کر اب تک تقریباً 1,300 یوکرینی فوجی لڑائی میں مارے جا چکے ہیں۔ یوکرین کے صدر نے کہا کہ اگر روس یوکرین کے دارالحکومت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے رہائشی علاقوں سمیت شہریوں پر بمباری اور ہلاکتیں جاری رکھنا ہوں گی۔ زیلنسکی نے کہا،’اگر یہی ان کا مقصد ہے، تو انہیں آنے دیں۔‘ صدر نے کہا کہ اگر وہ رہائشی علاقوں سمیت چنندہ جگہوں پر بمباری کرنا جاری رکھتےہیں اور پورے علاقے کی تاریخی یادگار کو مٹادیتے ہیں، تو وہ کیف میں داخل ہوسکتے ہیں۔‘




      یہ بھی پڑھیں:
      کیمیکل ہتھیار والے روسی دعوے کوAmericaنے کیامسترد،کہا-یوکرین میں نہیں ہے بائیولاجیکل لیبز

      روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری ہے۔ یوکرین کے کئی شہر کھنڈرات بن گئے، ہسپتالوں سے لے کر رہائشی علاقوں تک ہر طرف روس نے گولہ باری کی ہے۔ ماریوپول شہر کو مکمل طور پر گھیر لیا گیا ہے اور دارالحکومت کیف کے ارد گرد لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: