உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیپٹن امریندر سنگھ کے بچاو میں آئیں پاکستانی صحافی دوست عروسا عالم، کہا- الزام لگانے والے سیاسی طور پر یتیم

    کیپٹن امریندر سنگھ کے بچاو میں پاکستانی صحافی دوست عروسا عالم

    کیپٹن امریندر سنگھ کے بچاو میں پاکستانی صحافی دوست عروسا عالم

    Aroosa Alam Controvesy: پاکستانی صحافی عروسا عالم (Aroosa Alam) نے کہا کہ جب میں کیپٹن امریندر سنگھ (Captain Amarinder Singh) سے 2006 میں ملی تب 50 سال سے زائد کی تھی اور وہ 60 سال کے تھے، اس لئے اگر آپ سے معاشقہ کہتے ہیں اور اسے رومانٹک اینگل دینے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ بہت غلط ہے۔

    • Share this:
      چندی گڑھ: پنجاب کے سابق وزیرا علیٰ کیپٹن امریندر سنگھ (Captain Amarinder Singh) کی پاکستانی خاتون دوست عروسا عالم (Aroosa Alam) سے متعلق پنجاب کی سیاست میں ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ عروسا عالم پر آئی ایس آئی ایجنٹ (ISI agent) ہونے کے الزام لگائے جا رہے ہیں۔ صفائی میں کیپٹن امریندر سنگھ نے گزشتہ پیر کے روز عروسا عالم کی ملک کے کئی مشہور سیاسی شخصیات کے ساتھ 14 تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔ اس حادثہ کے بعد عروسا عالم نے انڈین ایکسپریس کو دیئے ایک انٹرویو میں کیپٹن امریندر سنگھ کا بچاو کرتے ہوئے مخالفین پر شدید تنقید کرتی ہوئی نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں بہت خوش قسمت ہوں کہ امریندر سنگھ نے مجھے اس پوری دنیا میں اپنا دوست بنانے کے لئے منتخب کیا ہے... ہمارا ذہنی اور آئی کیو سطح ایک جیسا ہے‘۔

      Aroosa Alam Controvesy: پاکستانی صحافی عروسا عالم (Aroosa Alam) نے کہا کہ جب میں کیپٹن امریندر سنگھ (Captain Amarinder Singh) سے 2006 میں ملی تب 50 سال سے زائد کی تھی اور وہ 60 سال کے تھے، اس لئے اگر آپ سے معاشقہ کہتے ہیں اور اسے رومانٹک اینگل دینے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ بہت غلط ہے۔

      آئی ایس آئی ایجنٹ ہونے پر کیا کہا

      اسلام آباد سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران عروسا عالم نے اپنے اوپر لگے آئی ایس آئی ایجنٹ ہونے کے الزامات سے متعلق کہا، ’میں بہت مایوس ہوں، بہت دکھی ہوں۔ میں گزشتہ 16 سال سے ہندوستان آرہی ہوں، ہر سال مجھے ایک سال کا ویزا ڈیو کلیئرنس کے بعد ملتا تھا۔ عروسا عالم نے کہا کہ کیا الزام لگانے والوں کو لگتا ہے کہ را کے بھی آئی ایس آئی سے ہاتھ ملے ہوئے ہیں۔ آپ کی آئی بی، مرکزی سیکورٹی ایجنسیاں، بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت، کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت- کیا وہ سبھی آئی ایس آئی پیرول پر تھیں، جن سے مجھے ویزا ملتا تھا‘؟

      مجھے اس میں کیوں گھسیٹ رہے ہیں؟

      انہوں نے کہا، ’یہ غیر منطقی، ہے، حقیقت میں مجھے ان الزامات کی پرواہ نہیں ہے۔ میں اپنی زندگی کے اس پڑاو پر ہوں، جہاں ان چیزوں کی پرواہ نہیں ہے، لیکن ان کی سیاست کے سطح کو دیکھیں‘۔ یہی نہیں عروسا عالم نے الزام لگانے والے لیڈروں سے سوال کیا ہے کہ آپ اتنا نیچے کیسے گرسکتے ہو؟ برائے مہربانی جاکر لوگوں کے لئے کچھ کام کریں، اگر آپ حکومت میں ہیں تو مجھے اس میں کیوں گھسیٹ رہے ہیں؟ وہ کہتی ہیں کہ مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ انہوں نے کیپٹن صاحب (امریندر سنگھ) کو 18 رکنی ایجنڈا (نافذ کرنے میں ان کی ناکامی) اور اس طرح کی چیزوں کے بہانے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا، لیکن بنیادی مقصد صرف انہیں ہٹانے کا تھا۔ اور اس کے بعد اب انہیں ان نکات پر خود پہنچنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔

      سدھو کی اہلیہ کے الزامات کا جواب

      پنجاب کانگریس یونٹ کے سربراہ نوجوت سنگھ سدھو کی اہلیہ نوجوت کور سدھو کے رشوت لینے کے الزامات سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ بہت گھٹیا الزام ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ میں بھاگ گئی، میں بھاگی نہیں ہوں، میرا ویزا ختم ہونے کے بعد میں پاکستان آئی تی اور اب میں اسلام آباد میں اپنے گھر پر ہوں۔ محترمہ نوجوت کور سدھو کے ہاتھوں پر 60 بے قصور لوگوں کا خون ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2018 میں دشہرہ ٹرین حادثہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حادثے میں پٹریوں پر کھڑے 62 لوگوں کو ایک ٹرین نے کچل دیا تھا۔ ایک مجسٹریٹ جانچ نے نوجوت کور سدھو کا نام صاف کر دیا تھا، جو اس تقریب میں مہمان خصوصی تھیں۔ انہیں دوسروں کے بارے میں بات کرنے اور بے بنیاد الزام لگانے کا کیا حق ہے؟
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: