உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia - Ukrain War: روس، ڈونباس کے باہر ایک نئے محاذ پر مصروفِ جنگ، آگ کے شعلے بڑھ اٹھے

    یہ علاقہ گورلووکا سے کچھ آگے ہے جو پہلے ہی مکمل طور پر روسی افواج کے قبضے میں جاچکا ہے۔ Verkhnotoretske میں تباہ شدہ بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے دیکھے گئے۔ علاقے میں قریبی مکانات اور ایک اسکول شدید گولہ باری اور بمباری سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔

    یہ علاقہ گورلووکا سے کچھ آگے ہے جو پہلے ہی مکمل طور پر روسی افواج کے قبضے میں جاچکا ہے۔ Verkhnotoretske میں تباہ شدہ بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے دیکھے گئے۔ علاقے میں قریبی مکانات اور ایک اسکول شدید گولہ باری اور بمباری سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔

    یہ علاقہ گورلووکا سے کچھ آگے ہے جو پہلے ہی مکمل طور پر روسی افواج کے قبضے میں جاچکا ہے۔ Verkhnotoretske میں تباہ شدہ بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے دیکھے گئے۔ علاقے میں قریبی مکانات اور ایک اسکول شدید گولہ باری اور بمباری سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔

    • Share this:
      جیسے ہی یوکرائنی فوج نے اپنے دارالحکومت کیف (Kyiv) کے ارد گرد کے علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے، روس کی توجہ اب مشرقی یوکرین پر مرکوز ہو گئی ہے۔ یوکرین کے لوہانسک اور ڈونیٹسک کے علاقے (Ukraine's Luhansk and Donetsk regions) مشترکہ طور پر ڈونباس کے علاقے پر مشتمل ہیں۔ انھیں ’آزاد‘ اداروں کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا لیکن بنیادی طور پر روس کے زیر کنٹرول ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی انتظامیہ نے فروری میں لوہانسک اور ڈونیٹسک کو ’آزاد علاقوں‘ کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

      روس یوکرین جنگ کے بارے میں لائیو اپ ڈیٹس کے لیے یہاں کلک کریں۔

      انڈیا ٹوڈے نے پہلے اطلاع دی تھی کہ یوکرین اور ڈونباس کے علاقے کے درمیان نئے محاذ پر ابھی بھی شدید لڑائی جاری ہے - ڈونیٹسک کا ایک گاؤں ورخنوتوریتسکے۔

      یہ علاقہ گورلووکا سے کچھ آگے ہے جو پہلے ہی مکمل طور پر روسی افواج کے قبضے میں جاچکا ہے۔ Verkhnotoretske میں تباہ شدہ بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے دیکھے گئے۔ علاقے میں قریبی مکانات اور ایک اسکول شدید گولہ باری اور بمباری سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔

      Explained : ایک ماہ بعد بھی یوکرین میں کیوں نہیں جیت سکا روس، جانئے اس کی 5 اہم وجوہات

      واضح رہے کہ یوکرین سے ملحقہ روس کے شہر بیلگوروڈ میں تیل کے ڈپو میں بھیانک آگ یوکرین کے حملے میں لگی تھی۔ اس کا انکشاف خود بیلگوروڈ کے گورنر نے کیا ہے۔ گورنر کے مطابق یوکرین کے حملہ آور ہیلی کاپٹر نے اس فیول ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ اگر گورنر کا دعویٰ درست ہے تو یہ روس کی سرحد میں داخل ہو کر یوکرین کا پہلا حملہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اب تک روسی فوج اپنا خصوصی فوجی آپریشن یعنی یوکرین کی سرحد میں داخل ہو کر حملہ کر رہی تھی۔

      یوکرین کی افواج اپنے مشرقی شہروں، خاص طور پر ماریوپول پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سخت جنگ لڑ رہی ہیں، جو روس کے لیے تزویراتی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ یہ ڈون باس کے علاقے میں ڈونیٹسک اور اس کے جنوب مغرب میں کریمیا (خیرسن کے بالکل سامنے) کے درمیان ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: