ہوم » نیوز » عالمی منظر

شدت پسندوں کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے:بشار الاسد

میونخ۔ دنیا کی اہم طاقتوں کے درمیان شام میں جنگ بندی کرانے اور دہشت گردوں کے قبضے والے علاقوں میں انسانی امداد مہیا کرانے کے ایک منصوبے پر سمجھوتہ ہو جانے کے باوجود صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف جنگ جاری ركھیں گے اور پورے ملک کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کراکر رہیں گے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 13, 2016 12:34 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
شدت پسندوں کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے:بشار الاسد
شام کے صدر بشار الاسد: فائل فوٹو۔

میونخ۔ دنیا کی اہم طاقتوں کے درمیان شام میں جنگ بندی کرانے اور دہشت گردوں کے قبضے والے علاقوں میں انسانی امداد مہیا کرانے کے ایک منصوبے پر سمجھوتہ ہو جانے کے باوجود صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف جنگ جاری ركھیں گے اور پورے ملک کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کراکر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ باغیوں کو شکست دینے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن ان کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ملک کے اندر کچھ قوم مخالف طاقتیں ہیں جن کی وجہ سے شدت پسندوں کو شکست دینے میں وقت لگ رہا ہے لیکن ان کی یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ صدر اسد نے ایک نیوز ایجنسی کو دئے گئے انٹرویو میں امن مذاکرات پر اپنی رضامندی کاتو اظہار کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ بات چیت کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ شدت پسندوں کے خلاف جو جنگ شروع کی گئی ہے اسے روک دیں گے۔ اس معاملے میں مسٹر اسد کو روس کا بھی ساتھ مل رہا ہے۔


روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس، شام میں فضائی حملے جاری رکھے گا۔ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش)اور القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے لئے جنگ بندی نہیں ہے۔ داعش نے شام اور عراق میں بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’روسی فوج ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے گی‘‘۔ تاہم، مغرب کے کچھ ممالک کا کہنا ہے کہ جب تک روس شام میں جنگ بندی نہیں کرتا ہے تب تک معاہدے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ بغیر سیاسی تبدیلی کے امن قائم کرنا مشکل ہے۔ شام میں جاری جنگ میں تقریبا ڈھائی لاکھ لوگ مارے گئے ہیں اور 1.1 کروڑ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ تشدد کی وجہ سے ملک کے کچھ شہروں میں گزشتہ ایک سال سے انسانی ا مداد نہیں پہنچ سکی ہے۔


اسد نے کہا،’’ان کی فوجیں ملک کے تمام علاقوں پر قبضہ کریں گی۔ کچھ علاقائی طاقتیں بھی موجود ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں وقت لگے گا اور بہت نقصان ہوگا۔ ہم اس بحران کے آغاز سے ہی بات چیت اور سیاسی حل نکالنے میں یقین رکھتے آ رہے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ سعودی عرب اور ترکی شام میں فوجی مداخلت کریں گے۔ ان دونوں ممالک کی فوج شام میں باغیوں کی مدد کر رہی ہیں۔


First published: Feb 13, 2016 12:34 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading