ہوم » نیوز » عالمی منظر

افغانستان کے صدراشرف غنی نے کہا- جو بائیڈن سےامریکی فوجوں کی واپسی میں تاخیرکا مطالبہ نہیں کیا

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جمعہ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن کا فیصلہ ایک تبدیلی کا فیصلہ تھا، جس کے دونوں اطراف کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم بائیڈن نے ان پر یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ افغانستان کو سلامتی اور انسانیت پرمبنی امداد فراہم کرتا رہے گا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 26, 2021 06:04 PM IST
  • Share this:
افغانستان کے صدراشرف غنی نے کہا- جو بائیڈن سےامریکی فوجوں کی واپسی میں تاخیرکا مطالبہ نہیں کیا
افغانستان کے صدراشرف غنی نے کہا- جو بائیڈن سےامریکی فوجوں کی واپسی میں تاخیرکا مطالبہ نہیں کیا

واشنگٹن: (اسپوتنک) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے دوران اپنی فوجوں کی واپسی میں تاخیر کا مطالبہ نہیں کیا۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جمعہ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن کا فیصلہ ایک تبدیلی کا فیصلہ تھا، جس کے دونوں اطراف کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم بائیڈن نے ان پر یہ واضح کردیا ہے کہ امریکہ افغانستان کو سلامتی اور انسانیت پرمبنی امداد فراہم کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغان سیکورٹی فورسز نے جنوبی اور شمالی افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ متعدد اضلاع پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے، جبکہ حکومت نے طالبان سے جنگ بندی اور سیاسی عمل میں واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو امریکی افواج کے انخلا کے بعد سامنے آنے والے نتائج کی روشنی میں کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور ملک کے عوام کو اس چیلنج کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ افغان وفد نے امریکی کانگریس کے قانون سازوں کے دو طرف کے گروپ سے ملاقات کی اور اس پر اتفاق رائے ہوا کہ وہ افغانستان کی حمایت کریں گے۔ اس سے قبل اپنے جواب میں، بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان نہیں چھوڑے گا، لیکن افغان عوام کو خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا، "جب ہماری فوجیں واپس آ رہی ہیں، افغانستان کے لئے ہماری مدد برقرار رہے گی۔"

Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 26, 2021 05:56 PM IST