کشمیر کی آسیہ اندرابی، جسے دہشت گرد حافظ سعید بلاتا تھا بہن، این آئی اے کررہی ہے پوچھ گچھ

جموں وکشمیر کی علیحدگی پسند آسیہ اندرابی کو دہلی کی ایک عدالت نے 10 دن کے لئے این آئی اے کی حراست میں سونپ دیا ہے۔

Jul 10, 2018 03:15 PM IST | Updated on: Jul 10, 2018 03:33 PM IST
کشمیر کی آسیہ اندرابی، جسے دہشت گرد حافظ سعید بلاتا تھا بہن، این آئی اے کررہی ہے پوچھ گچھ

حریت پسند لیڈر آسیہ اندرابی: فائل فوٹو

سری نگر: جموں وکشمیر کی علیحدگی پسند لیڈر آسیہ اندرابی کو دہلی کی ایک عدالت نے 10 دن کے لئے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی حراست میں سونپ دیا ہے۔ این آئی اے افسر فی الحال اندرابی اوران کی دو معاون صوفی فہمیدہ اورناہید نسرین سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔

آسیہ اندرابی کی تنظیم دختران ملت (ملک کی بیٹیاں) حریت کانفرنس سے منسلک خاتون ونگ ہے۔ 56 سالہ اندرابی پر ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام ہے اور ہندوستانی حکومت نے اس کی تنظیم پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

Loading...

اندرابی کئی بار دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کی واضح طور پرحمایت کرتی ہوئی بھی نظر آئی ہیں۔ این آئی اے کے افسر کے مطابق آسیہ نے گزشتہ سال ٹیلیفون پر حافظ سعید کو خطاب کیا تھا۔ اس دوران حافظ سعید انہیں بہن کہہ کر بلا رہا تھا۔

این آئی اے کے افسر کے مطابق اندرابی کھلے عام ہندوستان مخالف ٹوئٹس کرتی رہی ہیں۔ اس کے ٹوئٹرہینڈل پرقریبی نظر ڈالنے پروہاں ان کے فالوارس میں کئی لشکر دہشت گرد نظر آئے۔ ان میں س کچھ  کشمیروادی میں سرگرم ہیں۔ وہیں کچھ پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اردو میں کئے اندرابی کے ٹوئٹس کا ترجمہ کرایا جارہا ہے۔ اندرابی کے خلاف تیار کئے جارہے ڈوزیئرمیں اسے ثبوت کے طورپرپیش کیا جاسکتا ہے۔

آسیہ اندرابی پرہر 14 اگست پاکستان کی یوم آزادی کے موقع پرسری نگرمیں پاکستانی جھنڈا بلند کرنے، وادی میں لڑکیوں کو سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے لئے مشتعل کرنے سمیت کئی معاملے درج ہیں۔

کشمیر وادی کے نوجوان طلبا وطالبات پراندرابی کا زبردست اثرمانا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سال 2016 میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ مڈبھیڑ میں موت کے بعد وادی میں اسی کے اکساوے پرطلبا نے سیکورٹی اہلکاروں پرپتھر بازی کی تھی۔

جموں وکشمیر میں طالبات کے ذریعہ پتھر بازی کا منظر: فائل فوٹو

این آئی اے افسر کے مطابق آسیہ کی ان حرکتوں کی وجہ سے اسے کئی بارنظر بند کیا گیا، لیکن پھر بھی وہ کھلے عام پاکستان میں بیٹھے ہندوستان مخالف طاقتوں کا ساتھ دیتی رہی۔

افسران کا کہنا ہے کہ اس بار ان کے پاس آسیہ کے خلاف مناسب ثبوت ہیں کہ اس نے کئی کالج طالبات کوسڑک پراترکراحتجاجی مظاہرہ اورپتھربازی کے لئے اکسایا۔

آسیہ نے بایوکیمسٹری سے گریجویشن اورعربی سے پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ 1990 میں اس کی حزب المجاہدین کے بانیان میں شامل ڈاکٹر قاسم  فکتو سے شادی ہوئی تھی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے 1993 میں فکتو کو گرفتار کرلیا تھا، جس کے بعد سے وہ جیل میں ہی بند ہیں۔ اس وقت تک آسیہ خود بھی بڑی علیحدگی پسند لیڈرمیں شمارکی جانے لگی تھی۔ آسیہ کے دونوں بیٹے بیرون ممالک میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ بڑا بیٹا میلبورن سے ایم ٹیک، جبکہ چھوٹا بیٹا ملیشیا میں اسلامک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔

 

Loading...