اپنا ضلع منتخب کریں۔

    عراق میں بم دھماکہ، کم ازکم آٹھ عراقی پولیس اہلکار ہلاک، آخرکیاہے وجہ اور کون ہے ذمہ دار؟

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    سکیورٹی اہلکاروں کے قافلے پر بم حملے میں کم از کم آٹھ عراقی وفاقی پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ دھماکہ صفرا (Safra ) گاؤں کے قریب ہوا، جو کرکوک سے 30 کلومیٹر (20 میل) دور جنوب مغرب میں واقع ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ دو دیگر پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Iraq
    • Share this:
      عراق کے دو سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ اتوار کو تیل کی دولت سے مالا مال شہر کرکوک (Kirkuk) کے جنوب مغرب میں سکیورٹی اہلکاروں کے قافلے پر بم حملے میں کم از کم آٹھ عراقی وفاقی پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ دھماکہ صفرا (Safra ) گاؤں کے قریب ہوا، جو کرکوک سے 30 کلومیٹر (20 میل) دور جنوب مغرب میں واقع ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ دو دیگر پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے۔

      فوری طور پر کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن اس علاقے میں اسلامک اسٹیٹ سرگرم ہیں۔ عراق نے دسمبر 2017 میں اس گروپ پر فتح کا اعلان کیا، جس نے ماضی میں ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کیا تھا۔

      بغداد سے 238 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کرکوک کو عراقی سکیورٹی فورسز نے 2017 میں کرد فورسز سے چھین لیا تھا۔ کرد علاقائی حکومت نے ملک میں داعش (ISIS) کے عروج کے درمیان عراقی فورسز کے فرار ہونے کے بعد شہر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

      واضح رہے کہ اس سے قبل 30 اکتوبر 2022 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں فٹ بال اسٹیڈیم کے قریب بم دھماکہ ہوا تھا۔ حادثے میں قریب 10 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ واقعہ میں 20 سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے۔ سیکورٹی عہدیداروں کے مطابق یہ بم دھماکہ فٹ بال اسٹڈیم اور وہاں واقع ایک کیفے کے پاس ہوا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      بم دھماکے کو انجام دینے کے لیے ایک گاڑی کا استعمال کرنے کی بات سامنے آئی تھی۔ خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق فٹ بال اسٹڈیم کے پاس کھڑی گاڑی میں بم لگا کر دھماکہ کیا گیا تھا۔ جس نے وہیں قریب کھڑے ایک گیس ٹینکر کو بھی چپیٹ میں لے لیا۔ جس سے دھماکے نے بھیانک روپ لے لیا۔

      بتایا گیا تھا کہ حادثے میں مارے گئے زیادہ تر لوگ فٹ بال کھلاڑی تھے، جو دھماکے وقت وہیں آس پاس موجود تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: