உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کارگل جنگ کو روکنے کے لئے اٹل نے دلیپ کمار سے کرائی تھی نواز کی بات چیت

    لاہور: ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کارگل جنگ کے دوران پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے فون پر بات کی تھی ۔ اس وقت واجپئی بہت زیادہ غصہ تھے اور انہوں نے فون پر ہی نواز شریف کو پھٹکار لگائی تھی ۔

    لاہور: ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کارگل جنگ کے دوران پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے فون پر بات کی تھی ۔ اس وقت واجپئی بہت زیادہ غصہ تھے اور انہوں نے فون پر ہی نواز شریف کو پھٹکار لگائی تھی ۔

    • ibnlive.com
    • Last Updated :
    • Share this:

      لاہور: ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کارگل جنگ کے دوران پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے فون پر بات کی تھی ۔ اس وقت واجپئی بہت زیادہ غصہ تھے اور انہوں نے فون پر ہی نواز شریف کو پھٹکار لگائی تھی ۔ واجپئی نے اس دوران نواز شریف کی بات بالی ووڈ کے مشہور اداکار شہنشاہ جذبات دلیپ کمار سے بھی کروائی تھی۔ یہ دعوی پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے اپنی نئی کتاب میں کیا ہے۔


      خورشید قصوری نے اپنی کتاب میں نواز شریف کے سابق چیف سکریٹری سعید مہدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ مہدی نے انہیں بتایا تھا کہ مئی 1999 میں کارگل جنگ کے دوران ایک بار وہ وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، تبھی ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ وزیر اعظم کے اے ڈی سی نے فون اٹھایا اور کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی فوری طور پر ان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔


      فون پر بات چیت کے دوران واجپئی نے شریف سے اپنے لاہور کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے ان کی کارگل جنگ کو لے کر تنقید کی۔ قصوری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ فون پر واجپئی کی باتیں سن کر نواز شریف کافی حیران دکھائی دے رہے تھے۔ واجپئی نے ان سے کہا کہ لاہور میں اتنے خوبصورت استقبال کے بعد انہیں ان سے یہ امید نہیں تھی۔ شریف نے ان سے کہا کہ واجپئی جی کو کہہ رہے ہیں انہیں اس کی معلومات نہیں ہے۔


      نواز شریف نے واجپئی سے فون پر کہا کہ انہیں کارگل کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے اور آرمی چیف پرویز مشرف سے بات کرنے کے بعد وہ فون کریں گے۔ لیکن اس سے پہلے کہ فون پر بات چیت ختم ہو، واجپئی نے شریف سے کہا کہ ان کے سامنے کوئی شخص بیٹھے ہیں اور وہ نواز شریف سے بات کرنا چاہتے ہیں۔


      قصوری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ فون پر مشہور اداکار دلیپ کمار کی آواز سن کر نواز شریف ششدر رہ گئے۔ (دلیپ کمار پشاور کے رہنے والے ہیں اور ان کا اصلی نام یوسف خان ہے)۔ دلیپ کمار نے نواز شریف سے کہا کہ 'میاں صاحب ہم آپ کی طرف سے ایسی امید نہیں کرتے تھے، کیونکہ آپ نے ہمیشہ کہا ہے کہ آپ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن چاہتے ہیں۔
      دلیپ کمار نے نواز شریف سے کہا کہ ایک بات میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ہوتی ہے تو ہندوستانی مسلم اپنے آپ کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور اپنے گھر سے نکلنے میں بھی ڈرتے ہیں۔ لہذا آپ اسے روکنے کے لئے کچھ کیجئے۔ دلیپ کمار کو پاکستان کی طرف سے سب سے بڑے شہری اعزاز 'نشان امتیازسے نوازا گیا تھا۔


      قصوری نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ دلیپ کمار نے انتہائی معرکہ کی بات کہی تھی، جب ان کے جیسا مشہورشخص بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کے دوران ایک مسلم ہونے کے ناطے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے تو ہندوستان میں عام مسلمانوں کی حالت کیا ہوگی۔ سابق وزیر خارجہ نے اپنی کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دشمنی کی بجائے دوستی کا رشتہ بنانا بالکل ممکن ہے اور یہ دونوں ہی ممالک کے اقلیتوں کی صورت حال کے لئے کافی مثبت ہوگا ۔

      First published: