உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اویغور مسلمانوں اور بودھ طبقے پر پھر بڑھ جائے گا ظلم! مذہبوں کا ہوگا’چائنیزائزیشن‘

    چینی صدر شی جنپنگ. فائل فوٹو

    چینی صدر شی جنپنگ. فائل فوٹو

    شی جن پنگ کی تقریر کے بعد حکومت کے نشانے پر ایک بار پھر اویغورمسلم ہوں گے۔ اویغورطبقے کے علاوہ تبت کے بودھ طبقے پر بھی ظلم کا ایک اور دور چل سکتا ہے۔

    • Share this:
      بیجنگ: چین کی حکومت (Chinese Government) نے اب اپنے ملک میں مذہبوں پر شکنجہ اور زیادہ کَسنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ دراصل پچھلے ہفتے صدر شی جن پنگ نے سبھی مذہبوں کا چائنیزائزیشن (Sinicisation) کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ مذہبی لوگوں کو کمیونسٹ پارٹی سے منسلک کیا جائے اور اُنہیں سماج وادی اقدار سکھائے جائیں۔ شی جن پنگ نے صاف طور پر کہا ہےکہ چین میں مذہبوں کو اپنے ملک کی تہذیب کے مطابق ہونا چاہیے۔ مانا جارہا ہے کہ اس کے ذریعے ایک بار پھر اویغورمسلمانوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

      گزشتہ ہفتے دو روزہ قومی کانفرنس کے دوران مذہب سے جڑے معاملوں پر صدر جن پنگ نے یہ باتیں کہی ہیں۔ اس سے پہلے ایسی ہی ایک کانفرنس 2016 میں ہوئی تھی۔ اس کانفرنس کے ذریعے اگلے پانچ سال تک ملک کی حکومت کی مذہب پر پالیسیاں طئے کی جاتی ہیں۔

      یہ طبقے ہوں گے مرکزی نشانہ
      شی جن پنگ کی تقریر کے بعد حکومت کے نشانے پر ایک بار پھر اویغورمسلم ہوں گے۔ اویغورطبقے کے علاوہ تبت کے بودھ طبقے پر بھی ظلم کا ایک اور دور چل سکتا ہے۔ دونوں ہی طبقوں کو اُن کی روایتی مذہبی رواجوں کو چین کے نقطہ نظر سے مذہب میں ڈھالنے کے لئے دبائو ڈالا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ شی جن پنگ حکومت کا نشانہ اس بار عیسائی مذہب پر بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چین میں اس وقت سب سے تیزی سے عیسائی مذہب پروان چڑھ رہا ہے۔ جن پنگ حکومت اب اس پر کنٹرول قائم کرنا چاہتی ہے۔

      ’مادر وطن کی اہمیت بڑھ جائے‘
      جن پنگ نے کہا - اس بات کی کوشش کی جانی چاہیے کہ مادر وطن کی اہمیت بڑھے۔ یعنی چینی صدر، چینی تہذیب، کمیونسٹ پارٹی اور سماج واد کو مذہبی گروپوں میں اور زیادہ اپنانے کی کوشش کی جائے۔ مذہبی سرگرمیاں قانونی دائرے کے اندر ہی رہ کر ہونی چاہیے۔ مذہبی سرگرمیوں کا اثر عام شہریوں کی صحت پر نہیں پڑنا چاہیے۔

      5 مذہبوں کو تسلیم کرتا ہے چین
      بتادیں کہ چین سرکاری طور پر پانچ مذہبوں کو تسلیم کرتا ہے۔ ان میں بودھ، کیتھولک، پروٹسٹنٹ، تا آؤ اور اسلام شامل ہیں۔ ملک کے آئین میں مذہبی آزادی کو محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا ہے لیکن حقیقت میں چین میں مذہبی آزادی کو حکومت کے اشاروں پر زبردست طریقے سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ خاص طور سے پچھلے کچھ سالوں کے دوران اویغورمسلم چین کی حکومت کے نشانے پر رہے ہیں۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: