உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    AUKUS معاہدہ: امریکہ اور آسٹریلیا سے ناراض ہوا فرانس، پہلی بار واپس بلائے سفیر

    AUKUS معاہدہ: امریکہ اور آسٹریلیا سے ناراض ہوا فرانس، پہلی بار واپس بلائے سفیر

    AUKUS معاہدہ: امریکہ اور آسٹریلیا سے ناراض ہوا فرانس، پہلی بار واپس بلائے سفیر

    آکس معاہدے (AUKUS Agreement) نے فرانس (France) اور آسٹریلیا (Australia) کے درمیان 43 ارب ڈالر کے سبمرین معاہدہ کو ختم کردیا ہے۔ آکس معاہدے (AUKUS) سے ناراض فرانس نے امریکی صدر جو بائیڈن پر پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا الزام لگایا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      واشنگٹن: امریکہ (America)، برطانیہ (Britain) اور آسٹریلیا (Australia) کے درمیان ہوئے نئے فوجی معاہدہ کو لے کر فرانس (France) کافی زیادہ ناراض ہے۔ آکس معاہدہ  (AUKUS Agreement) سے ناراض فرانس نے سفارتی طریقے سے اب امریکہ اور آسٹریلیا سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا ہے۔ واضح رہے کہ آکس معاہدہ نے فرانس اور آسٹریلیا کے درمیان 43 ارب ڈالر کے معاہدے کو ختم کردیا ہے۔ AUKUS معاہدے سے ناراض فرانس نے امریکی صدر جو بائیڈن پر پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح برتاو کر رہے ہیں۔

      ایسا پہلی بار نہیں ہے جب فرانس اور امریکہ کے درمیان کسی موضوع سے متعلق اختلافات ہوئے ہوں۔ کئی عالمی معاملوں سے لے کر سال 2003 میں عراق جنگ کے وقت بھی دونوں ممالک کے درمیان اسی طرح کے اختلافات دیکھنے کو مل چکے ہیں۔ کئی بار دونوں ممالک کے درمیان ہوئے اختلافات کے باوجود کبھی بھی پیرس نے واشنگٹن سے اپنے سفیر کو واپس نہیں بلایا تھا۔ فرانس کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے ابھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ امریکہ اور آسٹریلیا میں سفیروں کی واپسی کب ہوگی۔

      فرانسیسی افسران نے اس ہفتے واشنگٹن اور بالٹی مور میں فرانس - امریکی تعلقات کا جشن منانے کے لئے منعقدہ ایک تقریب کو پہلے ہی منسوخ کردیا ہے۔ فرانس سفارتی طریقے سے ابھی اور کس طرح کے اقدامات کرے گا، اس کے بارے میں تو کوئی جانکاری نہیں ملی ہے، لیکن فرانس نے جس طرح سے اپنے سفارت کاروں کو امریکہ اور آسٹریلیا سے واپس بلایا ہے، اس سے واضح ہے کہ فرانس آسانی سے اس معاملے کو بھولنے والا نہیں ہے۔

      آکس معاہدے نے فرانس اور آسٹریلیا کے درمیان 43 ارب ڈالر کے سبمرین معاہدہ کو ختم کردیا ہے۔ آکس معاہدے سے ناراض فرانس نے امریکی صدر جو بائیڈن پر پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا الزام لگایا ہے۔
      آکس معاہدے نے فرانس اور آسٹریلیا کے درمیان 43 ارب ڈالر کے سبمرین معاہدہ کو ختم کردیا ہے۔ آکس معاہدے سے ناراض فرانس نے امریکی صدر جو بائیڈن پر پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا الزام لگایا ہے۔


      آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ ماریسن نے امریکی صدر جو بائیڈن اور برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے ساتھ جمعرات کو ایک معاہدے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت آسٹریلیا میں ایک جوہری توانائی سے چلنے والی پنڈبی بنانے کی بھی تجویز ہے۔ واضح رہے کہ AUKUS نے فرانس اور آسٹریلیا کے درمیان 43 ارب ڈالر کے معاہدے کو بھی ختم کردیا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعہ فرانس آسٹریلیا کو 12 ایٹمی طاقت سے چلائی جانے والی پن ڈبیاں دینے والا تھا۔ سال 2019 میں ہوئے اس معاہدے کو فرانس سے صدی کا معاہدہ بتاکر جشن منایا گیا تھا۔ وہیں اب فرانسیسی وزیر خارجہ جین یویس لے ڈرین نے اسے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے جیسا بتایا ہے۔

      کیا ہے AUKUS معاہدہ؟

      امریکہ اور آسٹریلیا نے اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور جوہری توانائی سے بچنے کے لئے، بحر ہند میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے درمیان، حکمت عملی کے لحاظ سے اہم خطے کے لئے ایک نئے سہ فریقی سیکورٹی اتحاد ’آکس (AUKUS)‘ کا اعلان کیا۔ طاقتور آبدوزیں اس پر چین کی ناراضگی کوئی حیران کن بات نہیں ہے، لیکن فرانس اور یوروپی یونین نے بھی اس اتحاد پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شکایت کی ہے کہ انہیں نہ صرف اس اتحاد سے باہر رکھا گیا، بلکہ ان کے ساتھ تبادلہ خیال بھی نہیں کیا گیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: