ہوم » نیوز » عالمی منظر

آسٹریلیا میں پارلیمنٹ ہاؤس میں فحش حرکتوں کی تصویریں لیک، ارکان پارلیمنٹ کیلئے سیکس ورکرز لانے کا الزام

حال ہی میں آسٹریلیا کی کنزرویٹو حکومت کے اسٹاف کے کچھ لیک ویڈیو (Leaked Video) سامنے آئے ہیں جن میں وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں فحش حرکتیں کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں ممبران پارلیمنٹ کیلئے بدکاری کا کاروبار کرنے والوں (sex workers) کو بھی لایا جاتا ہے۔

  • Share this:
آسٹریلیا میں پارلیمنٹ ہاؤس میں فحش حرکتوں کی تصویریں لیک، ارکان پارلیمنٹ کیلئے سیکس ورکرز لانے کا الزام
یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں ممبران پارلیمنٹ کیلئے بدکاری کا کاروبار کرنے والوں (sex workers) کو بھی لایا جاتا ہے۔

سرکاری ملازمین پر لگ رہے ریپ اور جنسی استحصال کے الزامات کے درمیان آسٹریلیائی سیاست (Australian Politics) میں منگل کو نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ حال ہی میں آسٹریلیا کی کنزرویٹو حکومت کے اسٹاف کے کچھ لیک ویڈیو (Leaked Video) سامنے آئے ہیں جن میں وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں فحش حرکتیں کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ تازہ تنازعہ کے بعد اسکاٹ ماریسن (scott morrison) انتظامیہ ایک مرتبہ پھر سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ وزیر اعظم اسکاٹ ماریسن (scott morrison) نے معاملے کو Offensive اور شرمناک بتایا ہے۔ وہیسل بلوور کی طرف سے باہر آنے سے پہلے مبینہ طور پر یہ تصویر اور ویڈیو اتحاد کی حکومت کے اسٹاف گروپ چیٹ میں شیئر کئے گئے تھے۔ اس معاملے کی سب سے پہلے جانکاری آسٹریلیائی اکبار اور چینل 10 نے پیر کو دی تھی۔


بھدی تصویروں کے سامنے آنے کے بعد خاتون اراکین پارلیمنٹ اور ملک کے شہریوں میں غصہ ہے۔ معاملے کا انکشاف کرنے والے کی پہچان ٹام کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کے اسٹاف اور Member of parliament کئ بار پارلیمنٹ میں موجود Prayer house کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں ممبران پارلیمنٹ کیلئے بدکاری کا کاروبار کرنے والوں (sex workers) کو بھی لایا جاتا ہے۔


اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی الزام لگائے ہیں کہ اسٹاف کے ممبران روز خود کی ایسی تصویریں آپس میں شیئر کرتے ہیں۔ خاص بات ہے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ایک شخص کو فورا نکال دیا گیا ہے۔ وہیں حکومت نے آگے کی کارروائی کا بھروسہ دیا ہے۔ خواتین کے معاملے کی وزیر میرج پین نے کہا ہے کہ یہ انکشاف مایوسی سے کہیں زیادہ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت کی جانب سے جانچ کے احکام دینے کی ضرورت کے بارے میں بتایا ہے۔


خاص بات یہ ہے کہ کام کی میں جگہ پر خراب ماحول کو لیکر آسٹریلیائی پارلیمنٹ مسلسل تنقید کا شکار ہو رہی ہے۔ سابق سرکاری اسٹاف برتنی ہیگنس نے سرعام پر الزام لگائے تھے کہ سال 2019 پارلیمنٹ کے دفتر میں ایک ساتھی نے ان کا ریپ کیا تھا۔ اس ماہ کی شروعات میں اٹارنی جنرل کرشچیئن پورٹر نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے 1988 میں 16 کی لڑکی کا ریپ کیا تھا۔ مسلسل سامنے آرہے ان تنازعات کے چلتے آسٹریلیائی وزیر اعظم پر دباؤ تیز ہو گیا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 24, 2021 01:12 PM IST