உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آسٹریلیا کی لڑکیاں کیوں ڈال رہی ہیں برہنہ بانہوں والی تصویریں

     پریس گیلری میں بیٹھی ہوئی خاتون صحافی کو چھوٹی آستین کے کپڑوں کی وجہ سے پارلیمنٹ سے باہر نکال دیا گیا۔

    پریس گیلری میں بیٹھی ہوئی خاتون صحافی کو چھوٹی آستین کے کپڑوں کی وجہ سے پارلیمنٹ سے باہر نکال دیا گیا۔

    پریس گیلری میں بیٹھی ہوئی خاتون صحافی کو چھوٹی آستین کے کپڑوں کی وجہ سے پارلیمنٹ سے باہر نکال دیا گیا۔

    • Share this:
      آسٹریلیا کی لڑکیاں کھلی بانہوں والی سیلفیاں پوسٹ کر رہی ہیں۔ برہنہ بانہوں والی تصویریں ڈال کر وہ اس خاتون صحافی کو حمایت دے رہی ہیں جسے آسٹریلیائی پارلیمنٹ سے زیادہ کندھے دکھنے کی وجہ سے باہر نکال دیا۔ ریڈیو پریزینٹر پیٹریشیا کارولاس کو پارلیمنٹ کے کوئیشچن راؤنڈ کے دوران باہر نکالنے کو کہہ دیا جو اس وقت چھوٹی آستین والے کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ اسی بات پر آسٹریلیا کے سوشل میڈیا پرہنگامہ مچا ہوا ہے۔
      یہ ہے وہ متنازعہ ڈریس جس کی وجہ سے صحافی کو پارلیمنٹ سے باہر کا راستہ دکھایا گیا۔

      اے بی سی نیشنل ریڈیو کی ملازمہ کویشچن راؤنڈ کے دوران کوریج کیلئے پریس گیلری میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ تبھی پارلیمنٹ میں کام کرنے والا ایک ملازم آیا اور اس نے بڑی ہی نرمی سے پیٹریشیا کے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔ پیٹریشیا بتاتی ہیں کہ اس نے بتایا کہ میرے کندھے ضرورت سے زیادہ نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر اس کی مخالفت کی اور اپنے کپڑوں کو پارلیمنٹ کے وقار کے مطابق بتایا۔ حالانکہ اٹینڈینٹ نے پٹریشیا کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں کوئیشچن راؤنڈ سے باہر چلے جانے کو کہا۔

      صحافی نے باہر نکلنے کے بعد انہیں کپڑوں میں ٹویٹ کرتے ہوئے واقعے کی تفصیل دی۔ جس کے بعد معاملہ وائرل ہوگیا۔ ادھر کپڑوں کے ٹھیک ہونے نہ ہونے کو لیکر آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کا بھی حوالہ انہوں نے دیا۔ جس کے مطابق کپڑے کسی کا نجی انتخاب ہے۔ حالانکہ اسپیکر اس پر فیصلہ لے سکتا ہے۔ پیٹریشیا اسی اسٹینڈرڈ کا حوالہ دیتے ہوئےکہتی ہیں کہ میں نے نہایت پروفیشنل پینٹ سوٹ پہنا تھا جو کہ مجھے بہت پسند ہے لیکن اٹینڈینٹ کوٹھیک نہیں لگا اور مجھے سوال۔جواب راؤنڈ سے باہر نکال دیاگیا۔







      First published: