آسٹریا : پرائمری اسکولوں میں مسلم طالبات کے اسکارف پر لگائی پابندی

یہ نیا قانون خاص طور پر صرف مسلمان بچیوں کی طرف سے ہیڈ اسکارف کے استعمال کے خلاف ہے اور اس کا اطلاق یہودیوں کی طرف سے سر پر پہنی جانے والی چھوٹی ٹوپی یا کِپّا اور سکھوں کی روایتی پگڑی پر نہیں ہو گا۔

May 17, 2019 10:46 AM IST | Updated on: May 17, 2019 10:46 AM IST
آسٹریا : پرائمری اسکولوں میں مسلم طالبات کے اسکارف پر لگائی پابندی

آسٹرین پارلیمان نے ملک بھر کے پرائمری اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی لگا دی ہے۔ جسے ماہرین ایک بڑا علامتی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ آسٹریا میں مسلمانوں کی ملکی تنظیم نے فوری طور پر اس کے خلاف احتجاج کیا ہے۔آسٹریا میں اس وقت قدامت پسندوں کی پیپلز پارٹی یا او وی پی اور دائیں بازو کے عوامیت پسندوں کی فریڈم پارٹی یا ایف پی او کی مخلوط حکومت اقتدار میں ہے۔ حکومتی جماعتوں کے ارکان کی اکثریتی تائید سے جو نیا مسودہ قانون بدھ پندرہ مئی کو منظور کیا گیا۔

اس کے مطابق ملک بھر کے پرائمری اسکولوں میں سروں کو ڈھانپنے کے لیے استعمال ہونے والے ایسے کسی بھی اسکارف یا ہیڈ ویئر کے استعمال کی ممانعت ہو گی، جو مذہبی شناخت یا نظریات کی عکاسی کرتا ہو۔ آسٹرین حکومت نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ یہ نیا قانون خاص طور پر صرف مسلمان بچیوں کی طرف سے ہیڈ اسکارف کے استعمال کے خلاف ہے اور اس کا اطلاق یہودیوں کی طرف سے سر پر پہنی جانے والی چھوٹی ٹوپی یا کِپّا اور سکھوں کی روایتی پگڑی پر نہیں ہو گا۔ خیال رہے کہ 2018 میں ڈنمارک حکومت نے چہرہ ڈھانپنے یا نقاب پر پابندی عائد کی تھی۔اس کے علاوہ فرانس، ہالینڈ، بیلجیم، بلغاریہ اور جرمنی کے چند حصوں میں بھی نقاب پر پابندی ہے۔

Loading...

Loading...