உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Baloch Women:پاکستان میں بلوچ خواتین پر ہورہا ظلم، بین الاقوامی برادری کی خاموشی پر اٹھے سوال

    بلوچستان میں خواتین پر ہورہے مظالم اور عالمی برادری بنی ہوئی ہے خاموش تماشائی!

    بلوچستان میں خواتین پر ہورہے مظالم اور عالمی برادری بنی ہوئی ہے خاموش تماشائی!

    Baloch Women: بلوچ نیشنل موومنٹ کے ہیومن رائٹس سیکریٹری نذیر نور بلوچ نے انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (UNHCR)، ہیومن رائٹس واچ (HRW) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کو خط لکھا۔

    • Share this:
      Baloch Women:لندن: پاکستان میں بلوچ خواتین کو ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ فری بلوچستان موومنٹ (ایف بی ایم) کے صدر حیربیار مری (Hyrbyair Marri)نے لندن میں ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں بلوچ خواتین کو اغوا کیا جا رہا ہے۔ ان خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اغوا ہونے والی خواتین کے رشتہ داروں کے خلاف پرامن احتجاج کرنے کے حقوق پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایف بی ایم کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان عالمی انسانی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔

      بین الاقوامی برادری کی خاموشی پر اٹھے سوال
      انہوں نے کہا کہ جب مشرقی تیمور اور کوسوو میں خواتین کو اغوا کرکے قتل کیا گیا تو عالمی برادری نے انسانی بنیادوں پر مداخلت کی لیکن بلوچستان کے معاملے میں عالمی برادری خاموش ہے۔ انہوں نے مزید سوال کیا کہ کیا بلوچستان کے لوگوں پر علیحدہ انسانی قانون لاگو ہوتا ہے؟ کیا پاکستان جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون سے مستثنیٰ ہے؟ مری نے کہا، وقت آ گیا ہے کہ تمام بلوچ آزادی پسند لوگ اکٹھے ہوں۔ پاکستان کے وحشیانہ جرائم کے خلاف مختلف عالمی فورمز پر اجتماعی طور پر آواز بلند کریں۔

      انسانی حقوق کی ہورہی ہے خلاف ورزی
      بلوچ نیشنل موومنٹ کے ہیومن رائٹس سیکریٹری نذیر نور بلوچ نے انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (UNHCR)، ہیومن رائٹس واچ (HRW) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کو خط لکھا۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا، "پچھلی دو دہائیوں سے، بلوچستان کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔"

      یہ بھی پڑھیں:
      Maryam Nawaz پر عمران خان کا قابل اعتراض تبصرہ، پاکستان کے PM نے بتایا افسوسناک۔۔۔۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Raid on Imran Khan residence:پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران کے گھر پولیس کا چھاپہ

      اجتماعی سزا کے نتیجے میں بلوچ عوام روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لیے بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی بین الاقوامی تنظیموں کو حالات سے آگاہ کرنے کے لیے کئی آگاہی پروگرام منعقد کیے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: