بھکمری کے سنگین بحران سے پریشان ہے پاکستان، بلوچستان میں ختم ہوگیا گیہوں کا اسٹاک

بھکمری کے سنگین بحران سے پریشان ہے پاکستان، بلوچستان میں ختم ہوگیا گیہوں کا اسٹاک

بھکمری کے سنگین بحران سے پریشان ہے پاکستان، بلوچستان میں ختم ہوگیا گیہوں کا اسٹاک

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر خوراک زمرک اچک زئی نے کہا کہ گیہوں کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے اور انہیں دو لاکھ بیگ کے بجائے صرف 10000 بیگ گیہوں حاصل ہوا ہے۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • Balochistan
  • Share this:
    پاکستان میں اقتصادی حالات انتہائی بدتر ہوگئے ہیں۔ وہیں بلوچستان میں وزیرخوراک اچک زئی نے کہا ہے کہ صوبے میں گیہوں کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے اور آٹے کا بحران مزید تشویشناک ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو فوری چار لاکھ بیگ گیہوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پوری نہیں کی گئی تو حالات انتہائی سنگین ہوجائیں گے۔

    ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر خوراک زمرک اچک زئی نے کہا کہ گیہوں کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے اور انہیں دو لاکھ بیگ کے بجائے صرف 10000 بیگ گیہوں حاصل ہوا ہے۔ آگے انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی سے انہوں نے چھ لاکھ بیگ کے لیے درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ الٰہی نے گیہوں دستیاب کرانے کا وعدہ کیا گیا، حالانکہ انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔

    زمرک اچک زئی نے کہا کہ انہوں نے گیہوں کے حوالے سے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت پاکستان نے انہیں گیہوں کے پانچ لاکھ تھیلے فراہم کیے اور وہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ان کا استعمال کیا گیا۔ اچک زئی نے کہا کہ بلوچستان اپنی ضروریات کا 85 فیصد سندھ اور پنجاب پر منحصر ہے۔ تاہم، ان لوگوں نے صوبے سے باہر گیہوں کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق، اس سے پہلے آٹھ جنوری کو بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بیزینزو نے متعلقہ عہدیداروں کو گیہوں جمع خوروں اور تھوک بیوپاریوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا، جس کا مقصد صوبے کی عوام کے لیے گیہوں کی کمی کو کنٹرول کرنا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں:
    'رات 8 بجے کے بعد بچے پیدا...'، پاکستان کے وزیر دفاع نے دیا عجیب و غریب بیان، اڑ رہا مذاق

    یہ بھی پڑھیں:
    شراب کی ایک بوند سے بھی جسم میں ہوسکتا ہے کینسر، WHO نے کیا بڑا انکشاف

    میر عبدالقدوس نے کہا کہ تمام اضلاع کی انتظامیہ کو متحرک کیا جائے اور گیہوں ذخیرہ کرنے اور مہنگے داموں میں اشیاء خوردونوش فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ذخیرہ اندوزوں اور اسٹریٹ فروشوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔
    Published by:Shaik Khaleel Farhaad
    First published: