உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان: کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے پاس زوردار دھماکہ، ایک کی موت اور 17  زخمی

    Balochistan University Explosion: تمام زخمیوں کو سول اسپتال میں علاج کے لیے لے جایا گیا ہے۔ اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا کہ زخمیوں میں 13 پولیس افسران اور چار راہگیر شامل ہیں۔

    Balochistan University Explosion: تمام زخمیوں کو سول اسپتال میں علاج کے لیے لے جایا گیا ہے۔ اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا کہ زخمیوں میں 13 پولیس افسران اور چار راہگیر شامل ہیں۔

    Balochistan University Explosion: تمام زخمیوں کو سول اسپتال میں علاج کے لیے لے جایا گیا ہے۔ اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا کہ زخمیوں میں 13 پولیس افسران اور چار راہگیر شامل ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے شہر کوئٹہ میں سریاب روڈ کے قریب بلوچستان یونیورسٹی کے اہم گیٹ کے باہر دھماکے (Balochistan University Explosion) میں ایک پولیس اہلکار کی موت ہو گئی اور 17 افراد زخمی ہوگئے۔ پاکستانی میڈیا نے پیر کو یہ معلومات دی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ سکیورٹی حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور جائے وقوعہ کے ارد گرد تحقیقات جاری ہیں۔
      بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ یونیورسٹی گیٹ کے باہر تعینات ایک پولیس ٹرک کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل میں رکھا گیا تھا۔ شاہوانی نے کہا کہ دھماکے کے ذمہ داروں کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
      زخمیوں میں 13 پولیس افسران اور 4 راہگیر ہیں شامل
      لیاقت شاہوانی نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ دھماکے میں ایک پولیس افسر کی موت ہوگئی ہے جبکہ سات پولیس اہلکاروں اور چار راہگیروں سمیت گیارہ افراد زخمی ہوگئے۔ بعد کے اپڈیٹ میں انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں تقریبا 17 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تمام زخمیوں کو سول اسپتال میں علاج کے لیے لے جایا گیا ہے۔ اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا کہ زخمیوں میں 13 پولیس افسران اور چار راہگیر شامل ہیں۔
      حملہ آور طلباء کو نشانہ بنانا چاہتے تھے
      اس درمیان وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگوو نے کہا کہ پولیس افسران یونیورسٹی کے باہر احتجاج کرنے والے طلباء کو سیکورٹی فراہم کرا رہے تھے جب دھماکہ ہوا۔ وزیر نے کہا ، "حملہ آور طلباء کو نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے پولیس افسران کو نشانہ بنایا گیا۔" لینگوو نے کہا کہ شرپسند عناصر طلبا کو نشانہ بنا کر انتشار پھیلانا چاہتے تھے۔

      دہشت گردوں کو صوبے کا امن خراب نہیں کرنے دیں گے
      دریں اثناء  شیخ رشید احمد نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئی جی بلوچستان (انسپکٹر جنرل پولیس) سے رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے اپنی جان سے ہاتھ دھوانے والے افسر کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کو صوبے کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو تمام ضروری وسائل اور مدد فراہم کرے گی۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: