உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نقاب پہن کر ووٹ نہ ڈالنےکا سرکاری حکم عدالت میں مسترد

    کیلگری (البرٹا)۔  کینیڈا کی ایک عدالت نے شہریت کا حلف لینے کے دوران مسلم خواتین کے لئے برقع نہ پہننے (چہرہ نہ ڈھکنے) سے متعلق حکومت کے حکم کو مسترد کر دیا ہے۔

    کیلگری (البرٹا)۔ کینیڈا کی ایک عدالت نے شہریت کا حلف لینے کے دوران مسلم خواتین کے لئے برقع نہ پہننے (چہرہ نہ ڈھکنے) سے متعلق حکومت کے حکم کو مسترد کر دیا ہے۔

    کیلگری (البرٹا)۔ کینیڈا کی ایک عدالت نے شہریت کا حلف لینے کے دوران مسلم خواتین کے لئے برقع نہ پہننے (چہرہ نہ ڈھکنے) سے متعلق حکومت کے حکم کو مسترد کر دیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      کیلگری (البرٹا)۔  کینیڈا کی ایک عدالت نے شہریت کا حلف لینے کے دوران مسلم خواتین کے لئے برقع نہ پہننے (چہرہ نہ ڈھکنے) سے متعلق حکومت کے حکم کو مسترد کر دیا ہے۔


      وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر نے عدالت کے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ’’ہم عدالت کے اس فیصلے سے مایوس ہیں اور حکومت اس سلسلے میں تمام ممکنہ قانونی اختیارات پر غور کر رہی ہے۔ جب کوئی باہری شخص کینیڈا کا حصہ بننا چاہتا ہے اور ایسے وقت میں وہ اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرے تو کینیڈا کے لوگ اس سے اپنی توہین محسوس کریں گے‘‘۔


      کینیڈا کی حکمران کنزرویٹو پارٹی نے کہا کہ اونٹاریو کی عدالت کے اس فیصلے کے پیش نظر کون كون قانونی آپشنز استعمال کیا جا سکتا ہے، اس پر حکومت غور کر رہی ہے۔ پارٹی نے بتایا کہ عدالت نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہے کہ 19 اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ میں یہ خواتین حصہ لیں۔


      اس انتخاب میں وزیر اعظم ہارپر کو اقتدار میں برقرار رہنے کے لئے سخت سہ فریقی مقابلے کا سامنا ہے۔ حکومت نے یہ کہتے ہوئے مسلم خواتین کے نقاب پہننے پر لگی روک کی حمایت کی کہ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کچھ خواتین کو نقاب سے چہرہ چھپانا "خواتین مخالف ثقافت" کا مظہر ہے۔


      حکومت کے اس فیصلے کی اپوزیشن نیو ڈیموکریٹس اور لبرلس دونوں نے جم کر مخالفت کی اور اسے کینیڈا کے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کنزرویٹو پارٹی کے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرنے کی بھی تنقید کی۔ كنزرویٹو پارٹی نے حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اکثریت کینیڈا کے شہری حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کرتی ہے۔



      واضح رہے کہ بعض یورپی ممالک کی طرح کینیڈا میں بھی نقاب اوڑھنے والی مسلم خواتین پر نئی پابندیاں عاید  ہیں اور کینیڈا کی شہریت کے حصول کی خواہاں برقع پوش مسلم خواتین کو اس کا حلف لیتے وقت اپنا چہرہ دکھانا ہو گا۔کینیڈین اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق نئی پابندی کے تحت شہریت کا حلف لیتے وقت نقاب، برقع یا کسی اور شے سے خود کو ڈھانپنے والی خواتین کو اب اپنا چہرہ ظاہر کرنا ہو گا۔



      اس پابندی میں کہا گیا تھا کہ شہریت کی حلف برداری کے لیے منعقدہ تقریب میں آمد کے موقع پر پہلے ایک سرکاری اہلکار نقاب پوش خواتین کو نئے ضابطے سے آگاہ کرے گا کہ وہ اپنا پردہ ہٹا لیں اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کریں گی تو شہریت کا حلف لینے والے جج کی جانب سے دوسری مرتبہ تنبیہہ کی جائے گی۔ اگر وہ اس مرحلے پر بھی انکار کر دیں گی تو پھر وہ تقریب کی تکمیل تک اس میں شرکت نہیں کرسکیں گی۔


      اس پابندی کے مطابق شہریت کے نئے قواعد وضوابط کے تحت شہریت کا حلف لینے والے جج کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ حلف لیتے وقت محلفہ خواتین/افراد کا چہرہ دیکھے لیکن جب یہ عمل مکمل ہو جائے گا تو یہ خواتین ایک مرتبہ پھر اپنے چہروں کو چھپانے کے لیے آزاد ہوں گی۔


      حلف برداری کی تقریب میں جو خواتین اپنا چہرہ ظاہر کرنے سے انکار کر دیں گی، وہ ملک کی مستقل رہائشی تو رہیں گی لیکن انھیں ووٹ کا حق حاصل نہیں ہو گا اور وہ بعض سرکاری ملازمتیں بھی نہیں کر سکیں گی۔اگر ان سے کوئی سنگین جرم سر زد ہوا تو انھیں ملک سے بھی بے دخل کر دیا جائے گا۔ شہریت کے لیے نئے قواعد وضوابط شہریت اور امیگریشن کے وزیر جیسن کینی کی جانب سے نافذ کردہ وسیع تر اصلاحات کے پیکج کا حصہ تھے۔ ان نئے قواعد وضوابط کے تحت اب یہ بھی ضروری ہو گا کہ شہریت کا خواہشمند امیدوار کینیڈا اور اس کی تاریخ کے بارے میں ماضی کے مقابلے میں زیادہ علم رکھتا ہو۔


      First published: