உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لاک ڈاون کی خلاف ورزی کے شک میں سالگرہ پارٹی پر پولیس نے مارا چھاپہ ، 50 افراد 'اجتماعی سیکس' کرتے ملے

    لاک ڈاون کی خلاف ورزی کے شک میں پولیس نے مارا چھاپہ ، 50 افراد 'اجتماعی سیکس' کرتے ملے

    لاک ڈاون کی خلاف ورزی کے شک میں پولیس نے مارا چھاپہ ، 50 افراد 'اجتماعی سیکس' کرتے ملے

    Belgian sex party raided: بیلجیئم میں پولیس نے لاک ڈاون  کی خلاف ورزی کے شک میں ایک سالگرہ پارٹی پر چھاپہ مارا تو گھر کے اندر 50 سے زیادہ لوگ اجتماعی سیکس کرتے پکڑے گئے ۔

    • Share this:
      یوروپ کے دیگر شہروں کی طرح بیلجیئم میں بھی کورونا کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر نائٹ کرفیو اور کوارنٹائن سے وابستہ دیگر ضوابط سختی سے لاگو کئے گئے ہیں ۔ اسی سلسلہ میں گزشتہ ہفتہ کو سالگرہ پارٹی سے وابستہ شکایت کے بعد جب پولیس نے لاک ڈاون قوانین پر عمل کروانے کیلئے ایک گھر میں ریڈ ماری تو اندر کا نظارہ دیکھ کر سبھی کے ہوش اڑگئے ۔ کورونا کے پیش نظر سماجی فاصلہ پر عمل کرنا تو دور اس گھر میں تقریبا 50 لوگ 'اجتماعی سیکس' کررہے تھے ۔

      ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق سبھی 50 لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور سب کو پہلے کورونا ٹیسٹ کیلئے بھیجا گیا ہے ۔ یہ معاملہ بیلجیئم کے province of Virton کے Saint-Mard نام کے ایک گاوں کا بتایا جارہا ہے ۔ پولیس کو اس گھر کے پاس موجود ایک اسپتال سے فون کیا گیا تھا ۔ اسپتال انتظامیہ نے شکایت کی تھی کہ اس گھر میں کافی تیز میوزک بج رہا ہے اور کافی لوگ جمع ہیں ۔ بتادیں کہ چار دسمبر کو ہی بریسلز میں ہنگری کے ایک رکن پارلیمنٹ کو بھی آل میل سیکس پارٹی سے رنگوں ہاتھوں پکڑا گیا تھا ۔


      پولیس نے بتایا کہ یہ گھر 28 سالہ ایک فرینچ خاتون کا ہے اور یہاں اس کے ہی یوم پیدائش کی پارٹی چل رہی تھی ۔ خاتون نے پولیس کو تقریبا 20 افراد کے آنے کی اطلاع دی تھی ، لیکن ریڈ کے وقت گھر میں 50 سے زیادہ افراد موجود تھے ۔ پولیس نے بتایا کہ جب وہ گھر میں داخل ہوئی تو نہ صرف لوگ ڈرگس لے رہے تھے بلکہ اجتماعی سیکس بھی کررہے تھے ۔ ان میں زیادہ تر لوگ فرینچ نیشنلس ہی ہیں ۔

      گھر میں پارٹی کیلئے کال گرلس اور میل پروسٹی ٹیوٹس بھی بلائے گئے تھے ۔ پولیس کو ریڈ میں کئی ممنوعہ ڈرگس بھی برآمد ہوئے ہیں ۔ اسپتال کے لوگوں نے بتایا کہ وہ بنا کپڑے پہنے لوگوں کو کھڑکیوں سے دیکھ سکتے تھے ، اسی کی وجہ سے پولیس کو بلایا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: