உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine Russia Conflict:امریکی صدر بائیڈن کا دعویٰ کہا، پوتن نے بنالیاہے یوکرین پر حملہ کرنے کا ذہن

    روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر جوزف بائیڈن۔

    روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر جوزف بائیڈن۔

    Ukraine Russia Conflict: روس ان فوجیوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے اس پر مغربی ملکوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روس کی مجموعی زمینی فوج کا 60 فیصد یوکرین کی سرحد پر تعینات ہے۔

    • Share this:
      واشنگٹن:امریکی صدر جو بائیڈن(Joe Biden) نے آج ٹرانس اٹلانٹک رہنماؤں کے ساتھ یوکرین پر روسی حملے کے امکان (Ukraine Russia Conflict)کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے روس کی فوج کی مسلسل تیاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ روسی دھمکی پر بائیڈن کے تبصرے بہت سنجیدہ ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادی میر پوتن(Vladimir Putin) نے یوکرین پر حملہ کرنے کا ذہن بنا لیا ہے۔ واشنگٹن نے روسی افواج کے انخلاء کے کوئی آثار نہیں دکھائے ہیں اور حملے کا خطرہ برقرار ہے کیونکہ روس نے فوجوں کو واپس بلانے کے بجائے یوکرائنی سرحد پر بھیج دیا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ میں نے اتحادیوں اور بحر اوقیانوس کے پارٹنرز کے ساتھ یوکرین اور اس کے ارد گرد روسی فوجی تعمیرات پر تبادلہ خیال کیا۔ میں اتحادیوں اور شراکت داروں سے متفق ہوں کہ وہ یوکرین کی حمایت کریں اور سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔ان کے مطابق روس آئندہ چند ہفتوں یا دنوں میں یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔ بائیڈن کا کہنا ہے کہ 40-50 فیصد روسی فوجی یوکرین کی سرحد کے ارد گرد حملوں کی زد میں ہیں۔ تاہم انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

      روس کے 60 فیصد زمینی آرمی، یوکرین کی سرحد پر جمع ہونے کا اندیشہ
      روس ان فوجیوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے اس پر مغربی ملکوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روس کی مجموعی زمینی فوج کا 60 فیصد یوکرین کی سرحد پر تعینات ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ اس کا حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن وہ طویل عرصے سے یوکرین کو اپنا حصہ سمجھتا رہا ہے اور نیٹو کی توسیع کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

      اس سب کے درمیان امریکی حکومت نے اب تک کی سخت ترین وارننگ جاری کی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے امریکی خفیہ اداروں کے ایک نتیجے سے آگاہ کیا، جس پر امریکا اور برطانیہ نے امید ظاہر کی کہ وہ حملے کی کسی بھی کوشش کا انکشاف کریں گے۔ تاہم امریکہ نے اپنے دعوؤں کی تائید کے لیے مزید تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: