اپنا ضلع منتخب کریں۔

    فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے 11000 لوگوں کو نوکری سے نکالا، زکربرگ نے مانگی معافی

    فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے 11000 لوگوں کو نوکری سے نکالا، زکربرگ نے مانگی معافی

    فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے 11000 لوگوں کو نوکری سے نکالا، زکربرگ نے مانگی معافی

    ‎Meta Layoffs: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا پلیٹ فارمس انک نے 11000 سے زیادہ ملازمین کو نوکری سے نکال دیا ہے ۔ نئی بھرتیوں پر تو پہلے سے ہی روک لگائی جاچکی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • America
    • Share this:
      نئی دہلی : سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا پلیٹ فارمس انک نے 11000 سے زیادہ ملازمین کو نوکری سے نکال دیا ہے ۔ نئی بھرتیوں پر تو پہلے سے ہی روک لگائی جاچکی ہے ۔ میٹا کے چیف ایگزیکٹیو افسر مارک زکربرگ نے کہا کہ ہم یہاں کیسے پہنچے، میں اس کی جوابدہی لیتا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ یہ سبھی کیلئے مشکل ہے اور جو لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں، ان کیلئے مجھے افسوس ہے ۔

      ڈبلیو ایس جے کی رپورٹ کے مطابق میٹا کے جن ملازمین کو کمپنی سے باہر کا راستہ دکھایا جائے گا، انہیں چار مہینے کی تنخواہ دی جائے گی ۔ کمپنی کے ہیومن ریسورس ہیڈ لاری گولیر کے مطابق نکالے گئے ملازمین کو معاوضہ کے طور پر چار مہینے کی تنخواہ دی جائے گا ۔ بتادیں کہ 2004 میں شروع ہوئی کمپنی کی 18 سالوں کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی چھٹنی ہے ۔ کمپنی کی خستہ مالی حالت اور خراب سہ ماہی نتائج کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔

      میٹا کے پورٹ فولیو میں فیس بک، انسٹاگرام اور وہاٹس ایپ جیسے اہم پروڈکٹس ہیں ۔ لیکن اپنے میٹاورس بزنس پر زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی وجہ سے کمپنی کی مالی حالت خستہ ہوگئی ۔ سرمایہ کاری کافی کی، لیکن ریٹرن نہیں ملا تو حالات مزید خراب ہونے لگے ۔ ایسے میں میٹا پر اپنے اوور آل بزنس میں کاسٹ کٹنگ کا فیصلہ کرنا فوری اقدامات میں سے ایک ہے ۔

      یہ بھی پڑھئے: ٹیلیگرام کے یہ نئے فیچرس اب ہوں گے دستیاب، ٹاپکس ان گروپس، کلٹیبلس یوزر نیم بھی ہوگا فراہم


      یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں نومبرکےآخرتک ٹویٹربلیوفیچر ہوگادستیاب، یہ ہیں صارفین کےذہنوں میں 5 بڑےسوالات



      کرنچ بیس کی رپورٹ کے مطابق 2022 میں اب تک امریکی کمپنیوں کے ذریعہ تقریبا 52 ہزار ٹیکنالوجی ایکسپرٹس کی نوکریاں جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔ اگر آج کی اس تعداد کو بھی شامل کرلیا کرجائے تو یہ تعداد 63 ہزار سے زیادہ ہوجائے گی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: