உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Coronavirus New Variant: کورونا کا نیا ویریئنٹ نارتھ کوریا سے پھیلنے کا خطرہ ، ڈبلیو ایچ او نے کیا خبردار

    Coronavirus New Variant: کورونا کا نیا ویریئنٹ نارتھ کوریا سے پھیلنے کا خطرہ ، ڈبلیو ایچ او نے کیا خبردار ۔ تصویر : سوشل میڈیا ۔

    Coronavirus New Variant: کورونا کا نیا ویریئنٹ نارتھ کوریا سے پھیلنے کا خطرہ ، ڈبلیو ایچ او نے کیا خبردار ۔ تصویر : سوشل میڈیا ۔

    Coronavirus New Variant: شمالی کوریا میں ان دنوں کورونا نے کہرام مچا رکھا ہے۔ وہاں ایک ہفتہ پہلے ہی کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا، اس کے بعد سے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے فوج کو اتار دیا گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : شمالی کوریا میں ان دنوں کورونا نے کہرام مچا رکھا ہے۔ وہاں ایک ہفتہ پہلے ہی کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا، اس کے بعد سے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے فوج کو اتار دیا گیا ہے۔ کوریا میں کورونا نہ صرف اسی کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ یہ پوری دنیا کو بھی مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا جیسی جگہوں سے کورونا کا ایک نیا ویریئنٹ پیدا ہو سکتا ہے۔ کوریا میں ویکسین نہ لگوانے والے لوگوں میں کورونا وائرس کے انفیکشن کے اعلی سطح تک پہنچنے کا خطرہ برقرار ہے۔

      شمالی کوریا عالمی ادارہ صحت کا رکن ہے، لیکن ایک الگ تھلگ ملک ہے۔ وہ اپنے پہلے کووڈ 19 کے قہر سے ہی چھٹکارا نہیں پا سکا ہے۔ ایسے میں ویکسین کی کمی اور میڈیکل انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے وہاں کورونا پھیلنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ شمالی کوریا میں کورونا کی وبا کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر مائیک راین نے کہا کہ اگر کوئی ملک دستیاب طریقے استعمال نہیں کرتا ہے تو یقیناً یہ تشویشناک بات ہوسکتی ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : کیا سویڈن اور فن لینڈ آسانی سے بن جائیں گے ناٹو کے ممبر؟ روسی صدر نے دی کھلی دھمکی


      انہوں نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بار بار خبردار کیا ہے کہ جہاں انفیکشن کا پتہ نہیں چلتا یا ٹیسٹ نہیں کیا جاتا، وہاں نئے ویریئنٹ کے سامنے آنے کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس نے بھی کہا کہ ویکسین نہ لگوانے والے افراد میں وائرس کا پھیلنا انتہائی تشویشناک ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : فن لینڈ اور سوئیڈن کے نیٹو میں شامل ہونے کی بحث کے درمیان روسی صدر پوتن نے دیا بڑا بیان


      اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسی نے پہلے کہا تھا کہ پیونگ یانگ نے ابھی تک عالمی ادارہ صحت کے بین الاقوامی صحت ضوابط کے تحت اس وبا کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا ہے۔ یہ ایک طرح سے قانونی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

      یہ پوچھے جانے پر کہ عالمی ادارہ صحت کا ردعمل کیا تھا، رائن نے کہا تھا کہ ادارہ مکمل طور پر تیار تھا، لیکن اسے ایک خودمختار ملک میں مداخلت کا اختیار نہیں تھا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: