உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بین الاقوامی پینل روہنگیا بحران پر پردہ ڈالنے کی سازش: بل رچرڈسن کا سوچی پر سنگین الزام

    تیکناف میں بنگلہ دیش۔ میانمار سرحد پار کرنے کے بعد روہنگیا پناہ گزیں غذائی اشیا لینے کے لئے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے: فائل فوٹو، رائٹرز۔

    تیکناف میں بنگلہ دیش۔ میانمار سرحد پار کرنے کے بعد روہنگیا پناہ گزیں غذائی اشیا لینے کے لئے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے: فائل فوٹو، رائٹرز۔

    نیویارک۔ سابق امریکی سفارتکار بل رچرڈسن نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کے روہنگیا بحران پر مشاورت کے لیے تشکیل کردہ بین الاقوامی پینل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نیویارک۔ سابق امریکی سفارتکار بل رچرڈسن نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کے روہنگیا بحران پر مشاورت کے لیے تشکیل کردہ بین الاقوامی پینل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پینل ایک ’وائٹ واش‘ یعنی پردہ ڈالنے کا کام کرنے والا تھا اور اس مسئلے پر آنگ سان سوچی میں ’اخلاقی قیادت‘ کا فقدان پایا جاتا ہے۔ میانمار کی حکومت نے اس پر کسی ردعمل اظہار نہیں کیا تاہم پینل کے ایک اور رکن کا کہنا تھا کہ رچرڈسن کا بیان غیرمنصفانہ ہے۔ گذشتہ سال میانمار میں فوجی کارروائیوں کے بعد ساڑھے چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں نے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش نقل مکانی کی تھی۔


      میانمار کی شمالی ریاست رخائن میں فوجی کریک ڈاون کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کو اقوام متحدہ نے ’نسل کشی کی کتابی مثال‘ قرار دیا تھا تاہم میانمار ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ کلنٹن انتظامیہ کے سابق مشیر بل رچرڈسن کا کہنا تھا کہ ’میرے مستعفی ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ مشاورتی بورڈ ایک وائٹ واش ہے۔‘ انھوں نے خبررساں ادارہ رائٹرکو بتایا کہ وہ ’حکومت کی مداح سرائی کرنے والے اسکواڈ کا‘ حصہ نہیں بننا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر کو آن سانگ سوچی کے ساتھ ملاقات میں جب انھوں نے آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے خلاف ورزی کے مقدمے کا سامنا کرنے والے رائٹر کے دو صحافیوں کا معاملہ اٹھایا تو ان کی بحث شروع ہوگئی۔ یہ صحافی اس وقت روہنگیا بحران پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوچی ’غضبناک‘ تھیں اور اس بات پر زور دے رہی تھیں کہ یہ مقدمہ ’مشاورتی بورڈ کے کاموں میں شامل نہیں ہے۔‘


      بل رچرڈ سن آنگ سان سوچی کو 1980 کی دہائی سے جانتے ہیں اور ان کے بارے میں ان کہنا تھا کہ ’انھیں اپنی ٹیم کی جانب سے اچھی ہدایات نہیں مل رہیں۔‘ ’میں انھیں بے حد پسند کرتا ہوں اور ان کی عزت کرتا ہوں۔ لیکن انھوں نے رخائن کے معاملے پر اخلاقی قیادت کا مظاہرہ نہیں کیا، اور الزامات عائد کیے ،اور مجھے اس پر پشیمانی ہے۔‘ رخائن ریاست سے متعلق سوچی حکومت نے ایڈوائزری بورڈ فار دی کمیٹی فار امپلیمینٹیشن آف ریکمینڈیشنز گذشتہ سال قائم کی تھی۔ بل رچرڈسن کے مستعفی ہونے سے پہلے اس میں دس ارکان تھے جن میں سے پانچ غیرملکی تھے۔


      ان میں سابق جنوبی افریقی وزیر دفاع روئلوف میئر بھی شامل ہیں جنھوں نے بدھ کو دیگر بورڈ ارکان کے ساتھ رخائن کا دورہ کیا تھا۔ انھوں نے رائٹر کو بتایا کہ یہ دورہ ’بہت تعمیری‘ رہا ہے اور کہا کہ ایسی کوئی بات کہ یہ بورڈ ’محض ایک حکومتی آواز ہے، بالکل غیر منصفانہ، غلط ہے۔ ہم نے ابھی تک کوئی تجاویز پیش نہیں کی ہیں۔‘

      First published: