உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چین کے آگے آبادی کا سنگین بحران، ’ڈریگن‘ کے چھوٹے پسینے! ایک فیصد سے نیچے پہنچی شرح پیدائش

    تین بچوں کی پالیسی کی حمایت کے بعد، چین کے صوبائی سطح کے 20 سے زیادہ علاقوں میں ترمیمات پوری کرلی گئی ہیں اور زچگی کی چھٹیوں کی تعداد میں اضافہ، شادی کی چھٹی اور پیٹرنٹی چھٹی جیسے معاون اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    تین بچوں کی پالیسی کی حمایت کے بعد، چین کے صوبائی سطح کے 20 سے زیادہ علاقوں میں ترمیمات پوری کرلی گئی ہیں اور زچگی کی چھٹیوں کی تعداد میں اضافہ، شادی کی چھٹی اور پیٹرنٹی چھٹی جیسے معاون اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    تین بچوں کی پالیسی کی حمایت کے بعد، چین کے صوبائی سطح کے 20 سے زیادہ علاقوں میں ترمیمات پوری کرلی گئی ہیں اور زچگی کی چھٹیوں کی تعداد میں اضافہ، شادی کی چھٹی اور پیٹرنٹی چھٹی جیسے معاون اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    • Share this:
      بیجنگ: چین (China) کے صوبائی سطح کے 10علاقوں میں 2020 میں شرح پیدائش ایک فیصد سے نیچے گر گئی۔ یہ صورتحال نئی پالیسی کے تحت جوڑوں کو ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے لئے راغب کرنے کی کوششوں کے باوجود دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے لئے کافی پریشان کن اور تشویش کا سبب بن گیا ہے۔ چین نے پچھلے سال اگست میں تین بچوں کی پالیسی (Three Child Policy) کو ایک اہم پالیسی کے طور پر پاس کیا تھا جو کہ دہائیوں پرانی ایک بچہ پالیسی سے پیدا ہوئی آبادی کے بحران (Demographic Crisis In China)کو دور کرنے کے لئے ہے۔

      چین نے 2016 میں ایک بچے کی پالیسی (One Child Policy) کو ختم کرتے ہوئے سبھی جوڑوں کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دی تھی اور ایک دہائی میں ایک بار ہوئی مردم شماری کے عبد تین بچے پیدا کرنے کی اجازت دینے کے لئے اس پالیسی میں ترمیم کی گئی۔ مردم شماری کے مطابق چین کی آبادی (China Population)سب سے سست رفتار سے آگے بڑھ کر 1.412 ارب ہوگئی ہے۔ نئے مردم شماری کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین کو جس آبادی کے بحران کا سامنا کرنا پڑرہاہے، وہ اور گہرا ہوسکتا ہے کیونکہ 60 سال سے اوپر کی آبادی بڑھ کر 26.400 کروڑ ہوگئی، جو 2020 میں 18.7 فیصد بڑھی۔

      صوبائی سطح کے 10 علاقوں میں گھٹ گئی شرح پیدائش
      تین بچوں کی پالیسی کی حمایت کے بعد، چین کے صوبائی سطح کے 20 سے زیادہ علاقوں میں ترمیمات پوری کرلی گئی ہیں اور زچگی کی چھٹیوں کی تعداد میں اضافہ، شادی کی چھٹی اور پیٹرنٹی چھٹی جیسے معاون اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ شماریاتی سال کی کتاب کے مطابق، 2020 میں چین کے 10 صوبائی سطح کے علاقوں میں شرح پیدائش ایک فیصد سے نیچے آگئی۔ سب سے زیادہ آبادی والے صوبوں میں سے ایک ہینان میں 1978 کے بعد پہلی بار پیدائش 10 لاکھ سے نیچے آگئی۔

      43 سالوں میں سب سے کم شرح پیدائش
      ’چائنا اسٹیسٹیکل ایئر بُک 2021‘ کے مطابق، 2020 میں چین کی شرح پیدائش 1000 لوگوں پر 8.52 درج کی گئی، جو 43 سالوں میں سب سے کم ہے۔ آبادی میں قدرتی اضافہ کی شرح فی 1000 لوگوں پر 1.45 رہی، جو 1978 کے بعد سے سب سے کم سطح ہے۔ سال 2020 کی شرح پیدائش شائع کرنے والے صوبائی سطح کے 14 علاقوں میں سے سات میں حالانکہ شرح پیدائش اوسط سے زیادہ درج کی گئی ہے۔ ان صوبوں میں جنوب مغربی گوؤژو صوبے اور گوآنگ شی ژوانگ آزاد علاقہ بھی شامل ہے۔

      کوویڈ کی وجہ سے متاثر ہوئی شرحد پیدائش!
      چین کے رینمین یونیورسٹی کے سینٹر فار پاپولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے ژونگ ژیان نے کہا کہ کوویڈ-19 شرحد پیدائش کو متاثر کرنے والے وجوہات میں سے ایک ہے۔ ژونگ نے کہا، ’چین کو بوڑھی ہوتی آبادی اور لوگوں کی پسند میں تبدیلی سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ کئی وجوہات کی وجہ سے شرح پیدائش میں کمی جاری رہے گی۔‘

      کچھ ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ 1990 کے بعد پیدا ہوئے بہت سے لوگ گھروں کی کمی کی وجہ سے شادی نہیں کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ملک کو نوجوان جوڑوں زیادہ بچے پیدا کرنے کے لئے راغب کرنا چاہیے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: