உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بلوچستان لبریشن فرنٹ کا پاکستانی فوج کے قافلے پر بڑا حملہ، کئی فوجی ہوئے ہلاک

    بلوچستان لبریشن فرنٹ کا پاکستانی فوج کے قافلے پر بڑا حملہ، کئی فوجی ہوئے ہلاک

    بلوچستان لبریشن فرنٹ کا پاکستانی فوج کے قافلے پر بڑا حملہ، کئی فوجی ہوئے ہلاک

    یہ جگہ بلوچستان صوبہ (Balochistan Province) میں واقع ہے۔ ایسا خدشہ ہے کہ بڑی تعداد میں فوجیوں کی موت ہوئی ہے۔ مقامی ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق، آئی ای ڈی حملے میں پاکستانی فوج کی گاڑی تباہ ہوگئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے جنگجووں نے پاکستانی فوج کے قافلے (Pakistan Army Attack) پر ایک بڑا حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ راکٹ اور دوسرے خطرناک ہتھیاروں سے کیا گیا ہے۔ حادثہ اواران ضلع کے پرانجر علاقے کا ہے۔ یہ جگہ بلوچستان صوبہ (Balochistan Province) میں واقع ہے۔ ایسا خدشہ ہے کہ بڑی تعداد میں فوجیوں کی موت ہوئی ہے۔ مقامی ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق، آئی ای ڈی حملے میں پاکستانی فوج کی گاڑی تباہ ہوگئی ہے۔

      فوج کی گاڑی پر پاکستان کا پرچم لگا تھا۔ اس حملے میں دو لوگوں کی موت ہوئی ہے اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ مارے گئے فوجیوں میں پاکستانی فوج کے جوان لانس نائیک محمد منیر کا نام شامل ہے۔ ساتھ ہی بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس حملے کی ذمہ داری لی ہے۔ معاملے میں بی ایل ایف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے 11 لوگ مارے گئے ہیں۔

      کیوں کیا گیا حملہ؟

      پاکستانی فوج پر اس لئے حملہ کیا گیا کیونکہ یہ لوگ علاقے میں ایک آپریشن کو انجام دینے کے لئے آئے تھے۔ ابھی کتنے لوگوں کی موت ہوئی ہے، یہ واضح طور پر پتہ نہیں چل سکا ہے۔ پاکستانی کی فوج پر بلوچستان کے لوگوں کو اذیت دینے اور جان سے مارنے کے الزام ہمیشہ سے لگتے رہے ہیں۔

      پہلے بھی ہوا تھا فوج پر حملہ

      تقریباً تین ماہ قبل بلوچستان میں ہی پاکستان کی فوج پر بڑا حملہ کیا گیا تھا، جس میں پانچ فوجیوں کی موت ہوگئی اور تقریباً 27 زخمی ہوئے تھے۔ بعد میں پاکستانی فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسیز پبلک ریلیشن نے اس حملے کی تصدیق کی تھی۔ فوج پر حملے کے بعد فائرنگ کی گئی اور پھر بندوق بردار بھاگنے میں کامیاب رہے۔ پاکستانی فوج کو بلوچستان کے مجاہدین آزادی کے ساتھ ساتھ پاکستانی طالبان کے حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی سال فوج پر کئی خطرناک حملے ہوئے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: