உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Blasphemy Cases in Pakistan: پاکستان میں رائج توہین مذہب قانون کیا ہے؟ کیا ہےاس کا پس منظر اور آج کے دور میں اہمیت

    توہین مذہب کے حوالے سے 295- اے بعد میں 1927 میں شامل کیا گیا

    توہین مذہب کے حوالے سے 295- اے بعد میں 1927 میں شامل کیا گیا

    سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 1947سے2021 تک توہین مذہب کے الزامات میں 18 خواتین اور 71 مردوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اب تک 107 خواتین اور ایک ہزار 308 مردوں پر توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2011 سے 2021 کے دوران ایک ہزار 287 شہریوں پر توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے۔

    • Share this:
    ۔۔۔پاکستان میں رائج توہین مذہب کا قانون کب بنا؟

    توہین مذہب یعنی Blasphemy کا قانون پاکستان (Pakistan) کو برطانوی حکومت سے ورثے میں ملا۔ مغلیہ دور میں برصفیر پا ک و ہند (موجودہ پاکستان و ہندوستان) میں عدالتی مقدمات کے فیصلے قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں کئے جاتے تھے۔ مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد 1860 میں برطانیہ کے راج میں انڈین پینل کوڈ (IPC) نافذ کیا گیا۔ جس کے مجموعہ تعزیرات ہند کے پندرھواں باب میں سیکشن 295(مذہبی مقامات کی بے حرمتی)، سیکشن 296 (مذہبی اجتماع کے خلاف اقدام)، سیکشن 297 (کسی مذہبی گروہ کے مقبرے پر حملے) اور سیکشن 298 (مذہبی جذبات مجروع کرنا) شامل کیے گئے۔ ایک اور باب میں سیکشن 153 الف (دو گروپوں کے درمیان مذہبی بنیاد پر منافرت پھیلانے کی کوشش) شامل کی گئی۔ ان کا جواز یہ تھا کہ ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی تشدد کو روکا جاسکے۔

    توہین مذہب کے حوالے سے 295- اے بعد میں 1927 میں شامل کیا گیا، جس کا متن حسب ذیل ہے۔ ”جو کوئی عملاً اور بدنیتی سے تحریری، تقریری یا اعلانیہ طور پر ہر میجسٹی کی رعایا کی کسی جماعت کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین یا توہین کی کوشش کرے، کہ جس سے اس کے مذہبی جذبات مشتعل ہوں تو اسے دو سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں“۔

    ۔۔۔پاکستان بننے کے بعد توہینِ مذہب کے قانون میں کب کیا ترامیم ہوئیں؟

    قیام پاکستان کے بعد 23 مارچ 1956کو 295-اےمیںموجود ”ہر میجسٹی کی رعایا“ کے الفاظ کو ”پاکستان کے شہریوں“ کے الفاظ سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس قانون میں جنرل ضیاکے فوجی حکومت کے دور سن 1980میں سیکشن 298۔اےکا اضافہ کیا جسکا متن حسب ذیل ہے۔

    ’’جو کوئی تحریری، تقریری، اعلانیہ، اشارتاً یا کنائتاً بالواسطہ یا بلاواسطہ امہات المومنینؓ یا کسی اہل بیتؓ یا خلفاءراشدینؓ میں سے کسی خلیفہ راشدؓ یا اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم کی بے حرمتی کرے، ان پر طعنہ زنی یا بہتان تراشی کرے، اسے تین سال تک کی سزا یا سزائے تازیانہ دی جائے گی یا دونوں سزائیں دی جائیں گی‘‘۔ یاد رہے کہ اس سیکشن میں پیغمبر اسلام کی اپنی شان میں گستاخی کی کوئی سزا نہ تھی۔

    1982میں سیکشن 295۔ بی شامل کی گئی جس کے مطابق جان بوجھ کر قرآن یا قرآنی آیات مقدسہ کی بے حرمتی کرنا یا نقصان پہنچانا جرم قرار دیا گیا اور ارتکاب جرم کرنے پر مجرم کیلئے عمر قید کی سزا مقرر کی گئی۔

    آرڈیننس بیس 1984ء کے ذریعے سیکشن 298 بی کا اضافہ کیا گیا جس کے مطابق قادیانی یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھنے والے احمدیوں کو خلفاء صحابہ اکرام کے علاوہ کسی کو امیرالمومنین، خلیفہء المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ‘ کہنے، اُمّ المومنین ؓ کے سوا کسی کو یہ القاب دینے، اہل بیت کے سوا کسی اور کو اہل بیت کہنے اور اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنے اور انہیں اپنی عبادت گاہ میں عبادت کیلئے بلاوے کو اذان قرار دینے کو جرم قرار دیدیا گیا جسکی سزاء تین سال قید اور جرمانہ مقرر کر دی گئی۔

    تعزیرات پاکستان میں سیکشن 298۔ سی شامل کر کے احمدیوں کو اپنے آپ کو مسلمان، اپنے عقیدے کو اسلام کہنے اور اپنے عقیدے میں آنے کی دعوت دینے کی سزاء تین سال قید اور جرمانہ مقرر کی گئی۔

    ۔۔۔۔تعزیرات پاکستان میں توہین مذہب (توہین رسالت) سے متعلق شق 295۔سی کب اور کیسے شامل ہوئی؟

    نثار فاطمہ نے 1986میں سینئر وکلا اور علما سے مشاورت سے پاکستان کی قومی اسمبلی میں توہین رسالت کے مجرم کے لئے سزائے موت کی سزا کا بل پیش کیا۔ جسے فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ تھرڈ 1986کی صورت میں منظور کرکے تعزیرات پاکستان میں 295۔سی کی صورت میں شامل کیا گیا جس کے مطابق ’’جو کوئی عملاً، زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلاواسطہ اشارتاً یا کنائتاً محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہو گا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جا سکتی ہے‘‘۔

    30اکتوبر 1990 میں وفاقی شرعی عدالت نے جماعت اسلامی پاکستان کی ایک درخواست کے جواب میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا کہ وہ 295 ۔ سی میں ترمیم کرکے عمر قید کے الفاظ حذف کر دے اوراس قانون کے تحت سزائے موت لازم قرار دے دی۔ اسی میں ایک اور ذیلی سیکشن کا اضافہ کرکے یہی سزا دیگر انبیاکرام کی شان میں گستاخی پر بھی دی جائے۔ اسکے لئے حکومت کو 30 اپریل 1992 تک کی مہلت دی گئی۔ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی مگر بعد از اپیل واپس لے لی۔ لیکن ان احکامات پر عمل نہیں کیا گیا۔

    قانونی ماہرین کی رائے میں 295 ۔ سی کی سزا صرف سزائے موت برقرار ہے مگر دیگر انبیا اکرام کی شان میں گستاخی پر سیکشن 295اے کا ہی اطلاق ہوتا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا دس سال قید ہے۔

    اس پانچ رکنی بنچ میں سابق جج لاہور ہائی کورٹ چیف جسٹس گل محمد خاں، سابق جج پشاور ہائی کورٹ جسٹس عبدالکریم خاں کنڈی، سابق جج کراچی ہائی کورٹ جسٹس عبدالرزاق تھہیم ،سابق جج کراچی ہائی کورٹ جسٹس عبادت یار خاںاورپی ایچ ڈی اسلامی قانون جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خاں شامل تھے۔ جنہوں نے یہ فیصلہ مختلف مکاتب فکر کے چھ جید علمائے کرام (فقہا) کی معاونت سے دیا گیا۔ ان میں مولانا سحبان محمود، مفتی غلام سرور قادری، حافظ صلاح الدین یوسف اور مفتی سعید الدین شیر کوٹی شامل تھے۔

    ۔۔۔پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات، قانون کا غلط استعمال اور رپورٹس:

    پاکستان میں توہین مذہب کے زیادہ تر واقعات میں مسلمان ہی اپنے دیگر ہم مذہبوں پر سنگین الزامات لگاتے نظر آئے ہیں۔ اکثر نجی نوعیت کے اختلافات کی وجہ سے توہین مذہب کے متنازعہ قانون کا نشانا بنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کئی سال سے توہینِ مذہب کے کیسز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کیسز میں زیادہ تر مسلمانوں کو ہی پکڑا جاتا ہے۔

    نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس کے مطابق 1987 سے لے کر اب تک 633 مسلمانوں، 494 احمدیوں، 187 عیسائیوں، اور 21 ہندؤوں کے خلاف ان قوانین کے تحت مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر توہین قرآن کے مقدمات ہیں اور توہینِ رسالت کے مقدمات قدرے کم ہیں۔

    سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی تجاویز:

    سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی تجاویز (CRSS) نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 1947سے2021 تک توہین مذہب کے الزامات میں 18 خواتین اور 71 مردوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اب تک 107 خواتین اور ایک ہزار 308 مردوں پر توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2011 سے 2021 کے دوران ایک ہزار 287 شہریوں پر توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے۔ محقیقین کا ماننا ہے کہ ’حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوگی کیونکہ توہین مذہب کے تمام کیسز میڈیا پر رپورٹ نہیں کیے جاتے ہیں‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال عدالت نے غیر قانونی قرار دیا ہے، اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون سازوں کو تجویز پیش کی تھی کہ موجودہ قانون میں ترمیم کریں تاکہ ایسے افراد جو توہین مذہب کے غلط الزامات لگاتے ہیں انہیں یکساں سزا دی جائے۔

    بین الاقوامی آزادی مذہب کے امریکی کمیشن کے مطابق اس وقت پاکستانی جیلوں میں تقریباً 80 افراد توہین مذہب کے الزام میں قید ہیں جن میں سے نصف سے زائد ملزمان کو عدالت عمر قید یا پھر موت کی سزا سنا چکی ہے۔

    ’ ہلاکتیں: پاکستان میں توہین مذہب قانون کے اثرات‘ نامی اس رپورٹ میں تنظیم نے اعتراف کیا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ پاکستان میں یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کا خاتمہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا۔

    ۔۔۔ پاکستان میں حال ہی میں ہونے والے توہین مذہب کے اہم واقعات:

    دسمبر2021میں پاکستانی شہر سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں بطور مینیجر کام کرنے والے سری لنکا کے ایک شہری کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنا نے کے بعد اس کی لاش کو بے رحمی سے آگ لگادی

    سن 2018 میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے توہین مذہب سے جڑے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ سے رہائی کے بعد بہت بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔ جس کے بعد آسیہ بی بی کو بیرون ملک منتقل ہونا پڑا۔ پاکستان 2016 بین الاقوامی مذہبی آزادی رپورٹ میں بھی بہت سے ایسےکیسز کا ذکر ملتا ہے۔
    ۔۔۔۔توہین مذہب کا قانون، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان کو دی گئی تجاویز:

    حقوق انسانی کے لیے سرگرم عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کے جائزے پر مبنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ قوانین حقوق انسانی کے بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں لہذا ان کے خاتمے کے لیے کوشش کرے۔

     

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں، پارلیمان اور دیگر متعلقہ اداروں کو الگ الگ تجاویز دی ہیں۔ پارلیمان کے لیے دی گئی تجاویز میں سر فہرست:
    ۔۔ پینل کوڈ 1860 جسے توہین مذہب کے قوانین بھی کہا جاتا ہے کے سیکشن 295، 295۔اے، 295۔ بی، 295۔ سی، 298 ۔ بی اور 298۔ سی کا خاتمہ کریں۔

    ۔۔ سزائے موت کے مکمل خاتمے تک، سکیشن 295 ۔ سی کے تحت بغیر کسی تاخیر کے سزائے موت ختم کر دیں۔

    یہ بھی پڑھیں: 

    ۔۔ تمام سزائے موت پر پابندی اور پہلے سے سنائی گئی سزائے موت کو تبدیل کرنا۔

    ۔۔ انسداد دہشت گردی کے 1997 ایکٹ میں سیکشن 295 ۔ اے اور 298 ۔ اے کو شیڈولڈ جرائم کی فہرست سے ہٹانا۔

    یہ بھی پڑھیں:

     

    ۔۔ توہین مذہب کے مقدمات میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور حکومت پاکستان کا موقف:

    حکومتِ پاکستان توہینِ مذہب کے مقدمات میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ حکومت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو ملکی آئین کے تحت مساوی حقوق حاصل ہیں، لہذٰا کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ اگر ایسی کوشش ہوتی ہے تو ریاست کا قانون حرکت میں آتا ہے۔

     

    ۔۔۔۔ چیئرمین پاکستان علما کونسل کا موقف:

    چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ توہین رسالتﷺ قانون کا باقی رہنا اور اسے مضبوط کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے۔سب کو یقین دلاتا ہوں کہ اس قانون کا غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، پچھلے 2 سال میں بھی اس قانون کا غلط استعمال نہیں ہونے دیا گیا۔
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: