உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کے مزار شریف کی مسجد میں بڑا دھماکہ، کئی لوگوں کی ہلاکت کا اندیشہ: رپورٹ

    Blast in Afghanistan: مزار شریف کے طالبان کمانڈر کے ترجمان آصف وزیری نے بتایا کہ جیل میں واقع شیعہ مسجد میں بم دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں 20 سے زائد افراد ہلاک جب کہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    Blast in Afghanistan: مزار شریف کے طالبان کمانڈر کے ترجمان آصف وزیری نے بتایا کہ جیل میں واقع شیعہ مسجد میں بم دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں 20 سے زائد افراد ہلاک جب کہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    Blast in Afghanistan: مزار شریف کے طالبان کمانڈر کے ترجمان آصف وزیری نے بتایا کہ جیل میں واقع شیعہ مسجد میں بم دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں 20 سے زائد افراد ہلاک جب کہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ شمالی افغانستان کے شہر مزار شریف (Mazar e Sharif )  کی ایک مسجد میں زوردار دھماکہ ہوا ہے۔ اس دھماکے   ( Blast in Afghanistan)  میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ معلومات جمعرات کو خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک مقامی طالبان کمانڈر کے حوالے سے دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 20 افراد کے زخمی ہونے کا اندیشہ ہے۔

      مزار شریف کے طالبان کمانڈر کے ترجمان آصف وزیری نے بتایا کہ جیل میں واقع شیعہ مسجد میں بم دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں 20 سے زائد افراد ہلاک جب کہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

      اطلاعات کے مطابق مزار شریف کے علاوہ کابل، ننگرہار اور قندوز میں بھی دھماکے ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ مزار شریف کی مسجد میں کل 4 دھماکے ہوئے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: امریکی فوج کے چھوڑے ہتھیار کو پاکستان بھیج رہا ہے Taliban، ہندستان کے خلاف استعمال کا خطرہ

      فلم Kabul Express کی شوٹنگ کے دوران جب طالبان نے دی بم سے اڑانے کی دھمکی، جان ابراہم کو یاد آئے دہشت بھرے دن 


      اس دھماکے سے قبل کابل میں سڑک کنارے ایک دھماکے میں دو بچوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ کابل میں آج جس جگہ دھماکہ ہوا، اسی علاقے میں دو روز قبل 19 اپریل کو بھی بم دھماکے ہوئے تھے۔ یہ دھماکے ایک سکول میں ہوئے۔ اس واقعے میں چھ افراد کی موت کی خبر سامنے آئی تھی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: